.

واشنگٹن عراق سے اپنی فوج نکال لے : عراقی ملیشیا کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں "عصائب اہل الحق" ملیشیا کے سربراہ قیس الخزعلی نے مطالبہ کیا ہے کہ داعش کے خلاف معرکہ آرائی کے خاتمے کے بعد امریکی افواج کو عراق سے کوچ کر جانا چاہیے۔ یہ بیان اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے اُس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایرانی ملیشیاؤں کے عراق سے چلے جانے کی ضرورت پر زور دیا تھا جب کہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے اس حوالے سے واضح جواب دے دیا گیا تھا۔

الخزعلی نے اپنی ٹوئیٹ میں عراق کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کی عسکری افواج پر لازم ہے کہ وہ اب اس بات کی تیاری شروع کر دیں کہ داعش کی موجودگی کا عذر ختم ہو جانے کے بعد بنا کسی تاخیر کے فوری طور پر ہمارے وطن عراق سے نکل جائیں"۔

ادھر شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے کمانڈر ہادی العامری نے پیر کے روز امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ العامری کے مطابق امریکی وزیر خارجہ بغداد میں "ناپسندیدہ" شخصیت ہیں اور ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ الحشد الشعبی کے حوالے سے اپنے غیر ذمے دارانہ بیان پر معذرت کریں۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے اتوار کے روز ریاض میں اپنے سعودی ہم منصب عادل الجبیر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ " داعش کی ہزیمت قریب آنے کے ساتھ ہی اب عراق میں موجود ایرانی گروہوں کو اپنے گھر لوٹ جانا چاہّیے اور وہ کنٹرول دوبارہ سے عراقی عوام کے حوالے کر دیں"۔

یاد رہے کہ ٹیلرسن پیر کے روز غیر اعلانیہ دورے پر بغداد پہنچے تھے جہاں انہوں نے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی سے ملاقات کی۔

قیس الخزعلی نے رواں برس مئی میں ایران نواز ملیشیا عصائب اہل الحق کو سراہا تھا۔ الخزعلی نے اس وقت باور کرایا تھا کہ مستقبل میں "لڑائی کے گروہ مکمل ہو چکے ہوں گے"۔ ملیشیا کے سربراہ کا اشارہ ایران میں پاسداران انقلاب ، یمن میں حوثیوں کی جماعت ، لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں الحشد الشعبی کی جانب تھا۔