.

ٹرمپ ایران اور اس کی ملیشیاؤں سے سختی سےنمٹیں گے:نائب صدر

’بیروت میں امریکی میرینز کے قاتل حزب اللہ کے لیڈر بن گئے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہربرٹ مکس ماسٹر نے کہا ہے لبنان میں سنہ 1983ء میں امریکی میرینز کے ہیڈ کواٹرپرحملہ کرنے والے اس وقت حزب اللہ ملیشیا کے لیڈر ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بیروت میں امریکی میرینز کے ہیڈ کواٹر پرحملے کی 34 ویں برسی کے موقع پر مکس ماسٹر نے کہا کہ ایران کے دہشت گردانہ حملوں کا مقصد امن مساعی ناکام بنانا تھا۔ آج بھی ایران پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ پوری دنیا کو ایران اور اس کے ایجنٹوں کی سرگرمیوں کو روکنا ہوگا۔ ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کو تباہ کرنے والے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

ادھر دوسری جانب امریکی نائب صدر مائک بنس نے بیروت میں امریکی میرینز پرحملے کے حوالے سے کہا کہ ہمارے فوجیوں پر حملہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پہلی چنگاری ثابت ہوا۔ ہم اپنی شرائط پر دہشت گردوں کی سرزمین میں یہ جنگ لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت نے حزب اللہ کی طاقت کچلنے کے لیے کوششیں بڑھا دی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ حزب اللہ ایک خطرناک دہشت گرد گروپ اور دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی بنیادی تنظیم ہے مگر ہم ایران اور حزب اللہ کو خطے کا امن برباد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ حزب اللہ، ایران اور اس کی ملیشیاؤں کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتیں گے۔ ہم حزب اللہ اور ایران کوخطے میں دہشت گردی کے سب سے بڑے سرپرست سمجھتے ہیں۔

ایک دوسرے سیاق میں مسٹر بنس نے کہا کہ دہشت گرد گروپ ’داعش‘ کے خلاف عالمی جنگ اس گروپ کو مکمل ختم کرنے تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کم زور ہوئی ہے مگر ختم نہیں ہوئی۔ ہم اس کے وجود کو ختم کرنے تک جنگ جاری رکھیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کانگریس سے فوج کے لیے صدر رونلڈ ریگن کے بعد سب سے زیادہ فنڈز کے حصول کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔