.

’نامعلوم‘ طیاروں کی دیر الزور میں بمباری،22 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے’ہیومن رائٹس آبزرویٹری‘ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز اسدی فوج کے زیرکنٹرول دیر الزور شہر کی ایک کالونی پر نامعلوم طیاروں کی بمباری سے کم سے کم 22 عام شہری جاں بحق ہوگئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’آبزرویٹری‘ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال شہر دیر الزور کے مغربی حصے میں واقع القصور کالونی پر نامعلوم جنگی طیاروں نے بمباری کی۔ یہ کالونی شامی فوج کے زیرکنٹرول ہے۔ بمباری کے نتیجے میں کم سے کم بائیس عام شہری مارے گئے۔

ادھر شام کے سرکاری ٹی وی پر نشر ایک خبر میں القصور کالونی پر بمباری کا الزام امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد پرعاید کیا گیا تاہم عالمی عسکری اتحاد نے اس پر کوئی رد عمل جاری نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ دیر الزور شہر میں دو الگ الگ اطراف سے مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ ایک طرف شامی فوج اور اس کی معاون روسی فوج دریائے فرات کے مغربی کنارے کے علاقوں پر حملے کررہی ہیں جب کہ دوسری طرف دریا کے مشرقی کنارے میں امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا کنٹرول ہے۔

دیر الزور کے آدھے علاقے پر ’داعش‘ کا قبضہ ہے اور یہ شام میں داعش کے زیرتسلط آخری بڑا شہر ہے۔ امریکا اور اس کے حامی گروپ الرقہ سے داعش کو نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اب ان کی اگلی توجہ دیر الزور میں داعش کو کچلنا ہے۔