.

حوثی باغیوں نے حلیف علی صالح کے گرفتار افراد رہا کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ایرانی پروردہ حوثی باغیوں نے اپنے حلیف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے گرفتار کردہ کئی حامی رہا کردیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فریقین میں صنعاء کے مقامی قبائل کے توسط سے ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت علی صالح کے حامیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے۔ مقامی قبائلی عمائدین نے صنعاء میں حوثی ملیشیا اور علی صالح کے حامیوں کے درمیان کسی نئے تصادم سے بچنے کے لیے مداخلت کی اور حوثیوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے علی صالح ملیشیا کے 13 عناصر کو رہا کرادیا گیا۔

یمن کے مقامی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے علی صالح کے 13 وفاداروں کو رہا کیا ہے۔ ان میں سے بیشتر علی صالح کے گھر کے محافظ ہیں۔ انہیں گذشتہ سوموار کو فریقین کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں اور علی صالح ملیشیا کے درمیان کشیدگی کے بعد سیکڑوں حوثی باغیوں نے السبعین گراؤنڈ کا محاصرہ کر کے علی صالح کی رہائش گاہ کی طرف جانے والے تمام راستے بند کردیے تھے۔ بعد ازاں حوثی باغیوں نے علی صالح کی رہائش گاہ کے باہر سے سیکیورٹی پر مامور 13 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

علی صالح ملیشیا کے افراد کی گرفتاری کے بعد صنعاء میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے تھے تاہم مقامی قبائلی رہ نماؤں جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، کی کوششوں سے یرگرفتار افراد کو رہا کردیا گیا۔