.

’گولان میں فائرنگ حزب اللہ کے حکم سے کی گئی، بشار الاسد لا علم‘

اسرائیل پر راکٹ حملے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے: لائبرمین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیردفاع آوی گیڈور لائبرمین نے دعویٰ کیا ہے کہ سوموار کے روز شام کے وادی گولان سے اسرائیل کے اندر فائرنگ کے واقعے سے شامی صدر بشار الاسد لا علم ہیں۔ یہ فائرنگ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیر انتظام ایک سیل کے حکم سے کی گئی تھی۔

’العربیہ‘ نیوز چینل کے نامہ نگار اسرائیلی وزیر دفاع کے بہ قول گذشتہ ہفتے کی صوبہ شام کی وادی گولان سے پانچ ’کاتیوشا‘ میزائل داغے گئے جو یہودی کالونیوں کے اطراف میں آکر گرے ہیں تاہم ان میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ پہلے تو اسرائیلی فوج نے سمجھا یہ کہ راکٹ غلطی سے اسرائیل کے علاقے میں داغے گئے ہیں۔ ممکنہ طورپر اسد رجیم کے علاقے القنیطرہ پر داغے گئے ہیں تاہم بعد ازاں پتا چلا کہ یہ میزائل ایک منصوبے کے تحت اسرائیل پر داغے گئے تھے۔

اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق آوی گیڈور نے اپنی جماعت ’اسرائیل بیتنا‘ کے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ذاتی طور پر میزائل حملوں کے احکامات صادر کئے تھے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا اگرچہ میزائل حملوں کے بارے میں اسد رجیم لاعلم ہے مگر اس کی ذمہ داری بشار الاسد کی حکومت پر عاید ہوتی ہے کیونکہ حزب اللہ کے دہشت گرد شام کی سرزمین کو استعمال کررہے ہیں۔