.

امریکا کی توجہ داعش سے ایرانی ملیشیاؤں کی جانب منتقل : واشنگٹن پوسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے جمعے کے روز شائع اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ داعش تنظیم کی ہزیمت کے بعد عراق اور شام میں امریکی فوج کی تمام تر توجہ ایرانی فورسز اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کا مقابلہ کرنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق حکمت عملی اس بات کا اشارہ ہے کہ مشرق وسطی کے حوالے سے امریکی فوج کی پالیسی تبدیل کر دی گئی ہے جہاں اب اس بات پر توجہ دی جا رہی ہے کہ ایرانی فورسز کو عراق اور شام سے نکل جانے پر مجبور کیا جائے"۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی سے یہ واضح نہیں ہو رہا ہے کہ واشنگٹن عراق اور شام میں ایرانی رسوخ کا مقابلہ کس طرح کرے گا۔

عراق میں ایران کا وسیع رسوخ امریکا کو درپیش نئے تزویراتی مسائل میں سے ایک ہے۔ رپورٹوں کے مطابق عراق میں داعش تنظیم اور کردوں کے خلاف معرکوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز اور ان کے ساتھ الحشد الشعبی کی ملیشیا شریک ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن عراق سے ایرانی فورسز کے انخلاء کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے تہران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے فوری طور پر اپنے جواب میں کہا کہ الحشد الشعبی فورسز عراقی سرکاری اداروں کا ایک حصہ ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا حاصل یہ ہوگا کہ ایران پھر سے گزشتہ صدی کی 80ء کی دہائی میں لوٹ جائے جہاں تہران خطے میں لبنانی حزب اللہ کے ذریعے امریکی تنصیبات اور مراکز کے خلاف ہلاکتوں ، اغوا اور خودکش دھماکوں کی کارروائیاں عمل میں لاتا تھا۔

مشرق وسطی کے امور کے امریکی ماہر نیکلس ہیرس کے نزدیک "اس کے سوا کئی چارہ نہیں کہ امریکی فوجیوں کو بھیج کر ایک وسیع زمینی جنگ کے ذریعے ایرانی فورسز کو عراق سے باہر نکالا جائے۔ البتہ جہاں تک شام سے ایران کو نکالنے کا تعلق ہے تو اس کے لیے عسکری یونٹ کو دارالحکومت دمشق کی جانب پیش قدمی کرنا ہو گی"۔

یاد رہے کہ ٹیلرسن یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کی جانب سے بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کو روکنے کے لیے اپنی فورسز بھیجنے کے باوجود شام میں تہران کا کوئی واضح عسکری کنٹرول نہیں ہے۔