.

کیا پاکستانی حکومت سعودی عرب میں قید شہری کو رہا کروا سکتی ہے؟

ظہیر حسین سے سرزد ہونے والے ٹریفک حادثے میں چار افراد جاں بحق ہوئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں زیر حراست ایک پاکستانی ڈرائیور ظہیر حسین نے حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ اس کے ذمہ واجب الادا دیت کی رقم ادا کرانے میں اس کی مدد کی جائے۔

ظہیر حسین 2013ء کے دوران مکہ ٹریفک حادثے میں 4 افراد کی موت کا باعث بن گیا تھا۔ جس کے بعد سے وہ جیل میں قید ہے۔

ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے چار افراد کی دیت کی مالیت 1.3 ملین ریال بنتی ہے۔

معاصر عزیز انگریزی اخبار “ٹریبون ایکسپریس” نے متذکرہ ڈرائیور کی اپیل شائع کرتے ہوئے بتایا کیا ہے کہ ظہیر حسین کی عمر 30 برس ہے وہ 4 بچوں کا باپ ہے۔ وہ اگست 2013 میں عرب کمپنی کے ڈرائیور کے طور پر سعودی عرب میں آیا تھا۔ اس کی گاڑی مکہ مکرمہ میں ایک ٹرک سے ٹکرا گئی تھی جس سے 4 افرادکی موت ہو گئی تھی۔

سعودی جج متوفیاں کے لواحقین سے کئی با ردیت معاف کرنے کی درخواست کر چکے ہیں۔