.

ارکانِ کانگریس ٹرمپ کی عسکری پالیسی پر تشویش کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان نے کانگریس سے رجوع اور اس کی منظوری کے بغیر دنیا بھر میں امریکی فوج بھیجنے (جیسا کہ شام اور نائیجیر میں ہوا) کا سلسلہ جاری رہنے پر اپنے اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک فوجی طاقت استعمال کرنے کے اختیارات 2001 سے موجود ہیں اور وہ ابھی تک منسوخ نہیں ہوئے۔

امریکی انتظامیہ اس موقف پر سختی سے قائم ہے کہ 2001 میں تفویض اختیارات القاعدہ اور اس سے ملتی جلتی تنظیموں مثلا داعش وغیرہ کے خلاف جنگ شروع کرنے کے لیے بطور قانونی دستاویز کافی ہے۔ وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور وزیر دفاع جیمز میٹس بھی اسی موقف کا اظہار کر چکے ہیں۔

دونوں وزراء نے باور کرایا کہ دہشت گردی کے خلاف مہم جاری رہے گی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر کانگریس نے اختیارات کی نئی تفویض پر اصرار کیا تو اسے کسی جغرافیائی علاقے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

یاد رہے کہ کانگریس کے ارکان کی اکثریت اس وجہ سے چراغ پا ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عسکری اختیارات کو وسیع کرتے ہوئے شمالی کوریا کے خلاف جنگ کی دھمکی دے رہے ہیں۔ قانون سازی کے ذمے دار ارکان چاہتے ہیں کہ صدر کے ممکنہ تصرفات پر ضابطے وضع کیے جائیں۔