.

بغداد اور اربیل حکومتیں عسکری جانب حتمی معاہدے کے نزدیک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میڈیا ذرائع کے مطابق عراقی حکومت کے عسکری وفد اور کردستان کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے اور فریقین ایک حتمی معاہدے کے قریب آ رہے ہیں۔

کرد میڈیا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بغداد حکومت کے عسکری وفد اور اربیل حکومت کے درمیان امریکی نگرانی میں تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔

ذرائع کے مطابق شرکاء نے تجویز پیش کی کہ "فیشخابور" کی سرحدی گزرگاہ کے انتظامی امور کے لیے عراقی سرحدی محافظین ، پیشمرگہ اور امریکی فورسز کو تعینات کیا جائے۔

اس کے علاوہ اربیل اور بغداد کی مشترکہ فورسز کو کردستان کے انتظامی دائرہ کار سے خارج علاقوں میں بھیجنے کی بھی تجویز دی گئی جہاں پیشمرگہ فورسز پہلے سے موجود ہیں۔

ذرائع نے واضح کیا کہ جانبین کے درمیان مشترکہ نکات اور آراء ہونے کے باوجود تمام فریق ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں۔

ادھر سلیمانیہ کے ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر طاہر عبداللہ نے تصدیق کی ہے کہ ہوائی اڈے نے تمام تکنیکی اور لوجسٹک اقدامات مکمل کر لیے ہیں اور اب ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے مفاہمت کے واسطے بغداد کے وفد کی آمد کا انتظار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہوائی اڈے کی بندش نے شہریوں کی زندگی اور شہر میں منڈیوں کی سرگرمیوں کا بڑی حد تک متاثر کیا اور اس کے نتیجے میں بہت سی پروازوں کے رک جانے کے سبب بڑے پیمانے پر مادی خسارہ ہوا۔

ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر کے مطابق ان کی انتظامیہ کو بغداد کے ساتھ تعاون کے معاملے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں اور وہ عراقی حکومت کو مطلوب امور پر عمل درامد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔