.

ترک سرحد پر "ابراہیم الخلیل" گزرگاہ پر عراقی فورسز کا کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں کسٹم حکام کے ایک ذمے دار کے اعلان کے مطابق عراقی حکام نے ترکی کے ساتھ سرحد پر واقع ابراہیم الخلیل گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک مشترکہ عسکری وفد کے گزرگاہ پہنچنے کے بعد سامنے آئی، جس کی قیادت عراقی فوج کے چیف آف اسٹاف عثمان الغانمی کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ پیشمرگہ فورسز کے سربراہ اور امریکی مشیروں کا ایک گروپ بھی تھا۔ وفد نے گزرگاہ کا دورہ کیا جس کو فریقین کے درمیان تین روز کے مذاکرات کے بعد عراقی وفاقی فورسز کے حوالے کر دینے پر اتفاق رائے طے پا گیا تھا۔

ذرائع نے باور کرایا ہے کہ انتظامی و سکیورٹی امور کے مشترکہ کام کے لیے رابطہ کاری کے واسطے فریقین کے بیچ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

عراقی فوج کے ایک بیان میں منگل کے روز بتایا گیا ہے کہ فوجی اہل کاروں کی ایک ٹیم کردستان اور شام کے درمیان ایک سرحدی گزرگاہ پر کنٹرول کے لیے تیاری کر رہی ہے۔

ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے منگل کے روز کہا ہے کہ منگل کے روز ترکی کے ساتھ سرحد پر واقع مرکزی گزرگاہ کا کنٹرول عراقی کردسستان کی حکومت سے عراق کی مرکزی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔

یلدرم نے حکمراں جماعت جسٹس اینڈ پیس پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ ترکی عراق کے ساتھ ایک دوسرا سرحدی پھاٹک کھولنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکوک جانے والا موجودہ راستہ چلتا رہے گا۔ قلیل مدت کے دورانیے کے واسطے تلعفر کے راستے ایک دوسرا سرحدی پھاٹک کھولنے کا آغاز کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزارت پیشمرگہ کے سکریٹری جنرل جبار الیاور نے باور کرایا ہے کہ فیشخابور اور ابراہیم الخلیل گزر گاہیں ابھی تک عراقی حکومت کے حوالے نہیں ہوئیں۔ انہوں نے مذکورہ دونوں گزر گاہوں پر وفاقی فورسز کی موجودگی کی بھی تردید کی۔

الیاور نے منگل کے روز "اسپٹنک" نیوز ایجنسی کو بتایا کہ کردستان کسٹم کے حکام کے مطابق ابراہیم الخلیل گزر گاہ پر وفاقی عراقی فورسز کا کوئی اہل کار موجود نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہوک صوبے کے گورنر نے بھی گزشتہ روز بیشخابور اور فیشخابور گزر گاہوں کا دورہ کیا اور انہیں وہاں وفاقی فورسز کا کوئی اہل کار نظر نہیں آیا۔