.

داعش تنظیم کی ہزیمت تک عراق میں رہیں گے : ٹیلرسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج داعش تنظیم کی ہزیمت کے بعد ہی عراق سے واپس آئے گی۔ پیر کے روز سینیٹ سے خطاب کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ عراقی وزیراعظم نے امریکی فوج کے انخلاء کو لازم نہیں کہا۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق 2001 اور 2002 میں جاری ہونے والے تفویضی اختیارات کو 11 ستمبر کے حملوں اور عراق جنگ کے بعد منسوخ نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا مذکورہ دونوں تفویضات کے مطابق عراق میں امریکی فوج کا باقی رہنا قانونی طور پر درست ہے۔

ٹیلرسن نے زور دے کر کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف مہم میں فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق کانگریس کی جانب سے کسی بھی نئی عسکری تفویض کو زمان و مکان کے لحاظ سے محدود نہیں ہونا چاہیے۔

ادھر امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا بھی یہ موقف ہے کہ سال 2001 اور 2002 میں جنگ کے تفویضی اختیارات حالیہ عسکری کارروائیوں کے لیے سالم بنیاد ہیں لہذا ان کو منسوخ نہیں کیا جانا چاہیے۔

دونوں وزراء کے یہ بیانات امریکی کانگریس میں وہائٹ ہاؤس کے سینئر اہل کاروں کے ساتھ منعقد ہونے والے اجلاس میں سامنے آئے۔ اجلاس میں داعش تنظیم اور دیگر دہشت گرد جماعتوں کے خلاف مہم میں فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق نئے تفویضی اختیارات کو زیر بحث لایا گیا۔

یاد رہے کہ کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان کئی برسوں سے یہ جھگڑا چل رہا ہے کہ کانگریس اپنے اختیارات کے حوالے سے بہت زیادہ دست برداری کا مظاہرہ کرتی ہے۔