.

عسکری اخراجات اور حربی ساز و سامان کے لیے سعودی عرب کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کا جنرل انویسٹمنٹ فنڈ مملکت کی معیشت میں ایک "تزویراتی" تبدیلی کا سنگ بنیاد رکھ رہا ہے۔ اس حوالے سے 9 نئی کمپنیوں کے قیام کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو مملکت کی جانب کشش دلائی جائے گی۔ اس سلسلے میں تفریح، پراپرٹی، انفرا اسٹرکچر اور عسکری صنعت سمیت متعدد شعبوں میں نئے اور ترقیاتی منصوبے پیش کیے جانے والے ہیں۔

پروگرام میں مقررہ ہدف کے تحت سال 2020 تک فنڈ کے زیر انتظام مجموعی اثاثوں کا 20% حصّہ نئے سیکٹروں میں استعمال کیا جائے گا اور مجموعی مقامی پیداوار میں ان اثاثوں کا حصہ 30 ارب ریال ہو گا۔

جنرل انویسٹمنٹ فنڈ کے تحت عسکری صنعت کے سیکٹر میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے 2017 میں عسکری صنعت کی سعودی کمپنی SAMI کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ کمپنی مکمل طور پر فنڈ کی ملکیت ہے۔ اس سلسلے میں متعین ہدف کے تحت سامی کو دنیا بھر میں عسکری صنعت کی 25 بڑی کمپنیوں میں سے ایک بنایا جائے گا۔ کمپنی نے اپنی حکمت عملی بہترین تحقیق اور مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ وسیع رابطہ کاری کے ذریعے متعین کی ہے۔ اس سلسلے میں کئی بڑی عالمی کمپنیوں سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

عسکری صنعت کی سعودی کمپنی SAMI کے کام کرنے کے شعبے

سعودی کمپنی سامی نے عسکری صنعت میں کام کرنے کے حوالے سے اپنے شعبے مقرر کیے ہیں۔ ان شعبوں میں:

- دفاعی الکٹرونک نظام : ریڈار ، سینسر ، راؤٹر اور کمیونی کیشن اور کمان اینڈ کنٹرول سسٹم

- ہتھیار ، گولہ بارود اور میزائل : درمیانے اور بھاری ہتھیار ، توپیں اور گولہ بارود

- زمینی نظام : ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کے اجزاء ترکیبی اور ان کی مرمت و دیکھ بھال ، ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کے پرزہ جات

- فضائی نظام: فکسڈ ونگ طیاروں کے پرزہ جات اور سامان کی تیاری اور دیکھ بھال ، ڈرون طیاروں کی تیاری اور مرمت و دیکھ بھال

جنرل انویسٹمنٹ فنڈ عسکری صنعت کی کمپنی "سامی" کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول اور مصنوعات کی تیاری سے متعلق پروگرام کے لیے 90 کروڑ ریال کی سپورٹ کرے گا۔ توقع ہے کہ سال 2020 تک قومی مقامی پیداوار میں سامی کمپنی کا حصّہ 90 کروڑ ریال کے لگ بھگ ہو گا اور اس دوران روزگار کے 5 ہزار مواقع پیدا ہوں گے۔

سکیورٹی اور دفاع پر مملکت کے اخراجات

سعودی عرب کا شمار دنیا بھر میں سکیورٹی اور دفاع پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ سال 2016 میں عسکری سیکٹر پر خرچ ہونے والی رقم مجموعی اخراجات کا 21 % رہی۔

اگرچہ اس مد میں خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے اور عسکری سیکٹر میں کئی کمپنیاں کام کر رہی ہیں تاہم اس کے باوجود مملکت کی جانب سے ہتھیاروں کے حصول ان کی دیکھ بھال اور پرزہ جات کی مد میں خرچ ہونے والی مجموعی رقم میں مقامی حصّہ 5% سے زیادہ نہیں۔

اسی واسطے مملکت کے ویژن 2030 پروگرام میں عسکری صنعت کے سیکٹر کو مقامی سطح پر لانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مقررہ ہدف کے مطابق سال 2030 تک عسکری اخراجات کی مجموعی رقم میں مقامی صنعت کا حصّہ 50% تک پہنچایا جائے گا۔