.

مشرق وسطی کا حل حزب اللہ کے ہتھیاروں کا بھی حل ہے : میشیل عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشیل عون کا کہنا ہے کہ "مشرق وسطی کا حل ہی لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے مسئلے کا حل ہے"۔

انہوں نے یہ بات صدارت کا منصب سنبھالنے کے ایک سال پورا ہونے کے موقع پر صدارتی محل میں لبنانی ٹیلی وژن کے چینلوں کے سربراہان اور ڈائریکٹروں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق "ملک میں اکیلے فوج کے ہتھیار نہ سنبھالنے کی دو وجوہات ہیں۔ اندرونی وجہ یہ ہے کہ مالی تنگی کے سبب ہتھیاروں کی تعداد میں کمی ہے جب کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ لبنانی ریاست اور حزب اللہ دونوں بین الاقوامی قرارداد 1701 پر کاربند ہیں"۔

میشیل عون کا مزید کہنا تھا کہ "ہم نے ریاست سنبھالی تو وہ تباہ حال تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے سرے سے تعمیر کرنا اُس بحالی کے مقابلے میں کہیں آسان ہے جو اس وقت ہمیں درپیش ہے۔ ایسے بہت سے امور ہیں جن کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ریاست کے ستونوں پر توجہ کرنے سے قبل بدعنوانی کے خلاف معرکہ آرائی شروع نہیں کی جا سکتی"۔

لبنان کے صدر نے شام کے ساتھ تعلقات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دمشق کے ساتھ وزارتی سطح پر کوئی رابطہ کاری نہیں ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلق سفیروں کی حد تک محدود ہے۔