.

مصری فضائیہ کی مغربی صحرا میں جنگجوؤں کے ٹھکانے پر بمباری ، 12 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر ی فضائیہ نے دس روز قبل صوبہ جیزہ میں پولیس کے ایک قافلے پر تباہ کن حملے میں ملوّث مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانے پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں بارہ جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

مصری فوج نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’جنگجوؤں کے ٹھکانے پر فضائی حملہ پولیس سے رابطے اور انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے اور یہ حملہ قومی شہداء کے انتقام کے لیے پولیس اور مسلح افواج کی کارروائیوں کا تسلسل ہے۔اس حملے میں متعدددہشت گرد عناصر ہلاک ہوگئے ہیں اور فضائیہ اور پولیس راہِ فرار اختیار کرنے والے جنگجوؤں کی پیچھا کررہی ہے‘‘۔

فوج نے اس فضائی حملے کی فوٹیج بھی جاری کی ہے اور بتایا ہےکہ اسلحہ اور گولہ بارود سے لدی تین گاڑیوں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔صوبے جیزہ کے سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ فضائی بمباری میں بارہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں لیکن مصری فوج کے ترجمان نے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ 21 اکتوبر کو حملے کے بعد اغوا ہونے والے ایک پولیس افسر کو بازیاب کر لیا گیا ہے اور اس کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے لیکن فوجی ترجمان نے اس اطلاع کی بھی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ 21 اکتوبر کو لیبیا کی سرحد کے نزدیک واقع مغربی صحرا میں پولیس کے ایک قافلے پر جنگجوؤں کے اچانک تباہ کن حملے میں باون پولیس افسر اور رنگروٹ ہلاک ہوگئے تھے۔تب ہلاکتوں کی یہ تعداد سکیورٹی ذرائع نے بتائی تھی لیکن مصر کی وزارت داخلہ نے ان اعداد کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ حملے میں صرف سولہ افسر ہلاک ہوئے تھے۔

صوبہ جیزہ میں دارالحکومت قاہرہ سے 130 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع صحرائی علاقے میں پولیس قافلے پر اس حملے کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔مصری فضائیہ نے گذشتہ جمعہ کو بھی اسی علاقے میں جنگجوؤں کے ایک ٹھکانے پر بمباری کی تھی اور اس میں تیرہ جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے جنگجوؤں کے اس حملے کے ایک ہفتے کے بعد فوج کے نئے چیف آف اسٹاف کا تقرر کیا تھا اور وزارتِ داخلہ نے متعدد اعلیٰ افسروں کو برطرف کردیا تھا۔