.

یمن میں کشت وخون اور تباہی وبربادی کا ذمہ دار ایران ہے: بن دغر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت کے سربراہ احمد بن دغر نے ایک بار پھر ملک میں خون خرابے اور تباہی پھیلانے کی ذمہ داری ایران پر عاید کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ یمن دنیا کا بدترین انسانی المیہ ہے۔ یمن میں بہنے والے خون اور تباہی اور بربادی کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کو یمن میں حوثی باغیوں اور دوسرے دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے سے روکے تاکہ ملک میں جاری قتل عام اور تباہی کا سلسلہ بند کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں جاری جنگ میں ایران مالی اور جنگی وسائل مہیا کررہا ہے جو نہ صرف تباہی اور بربادی کا موجب بن رہے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔

بن دغر کا کہنا ہے کہ ایران نہ صرف یمن میں مداخلت کا مرتکب ہے بلکہ تہران کی خطے میں توسیع پسندانہ پالیسیوں اور تخریبی کردار نے پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

بن دغر نے خطے میں ایرانی مداخلت روکنے کے لیے عالمی کردار پر تنقید کی اور کہا کہ عالمی برادری ایران کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہی ہے جس نے ’باب المندب‘ سے گذرنے والی علاقائی اور عالمی آبی ٹریفک کو خطرے میں ڈالا ہے۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار ریاض میں فرانسیسی سفیر کریسٹین زتوفی سے ملاقات کے دوران کیا۔

یمنی وزیراعظم نے ملک میں جاری بغاوت کچلنے اور آئینی حکومت کی عمل داری بحال کرنے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں عالمی اتحاد کی خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ باغیوں نے ایران کی شہ پر مذاکرات کے بجائے تباہی کا راستہ چنا۔ یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایران کی خطے میں مداخلت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔