.

بارزانی بطور سیاسی رہ نما یا عسکری کمانڈر، بغداد کو اصل مشکل کس سے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبہ کردستان کے سبکدوش ہونے والے وزیراعلیٰ مسعود بارزانی نے 29 اکتوبر 2017ء کو وزارت اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’میں مسعود بارزانی ہوں۔ میں نے کردستان کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا ہے مگر میں کرد فوج البیشمرکہ‘ کا رکن ہوں اور میں آزادی کے لیے اپنی قوم کی مدد جاری رکھوں گا‘۔

کردستان کی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استعفے کا اعلان تو وہ پہلے ہی کرچکے تھے مگر جن حالات میں انہوں نے عہدہ چھوڑا ہے وہ ان کی مرضی کے خلاف ہیں۔

’العربیہ‘ چینل کے ترکی الدخیل کو 25 ستمبر 2017ء کو عراق کے صوبہ کردستان کے آزادی ریفرینڈم سے قبل دیئے گئے ایک انٹرویو میں مسعود بارزانی نے کہا تھا کہ وہ دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے امیدوار نہیں بنیں گے۔ جب کردستان آزاد اور خود مختار ریاست بن جائے گا تو میرا مشن مکمل ہوجائے گا۔ اب چونکہ معاملہ الٹ ہوتا جا رہا ہے۔ کردستان لمحہ بہ لمحہ اپنی آزادی کی منزل سے دور ہو رہا ہے۔ کرد حکومت نے کئی ایسے اقدامات کیے جس سے لگتا ہے کہ وہ آزادی کے مطالبے سے پیچھے ہٹ رہی ہے تاہم یہ ساری تبدیلی عراق کے سیاسی اور عسکری منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

ریفرینڈم کے تین اہداف

’العربیہ‘ کے جنرل منیجر ترکی الدخیل کو دیے گئے انٹرویو میں مسعود بارزانی نے عراق کی پالیسی کو اپنے اقدامات کے جواز کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کردوں نے متحدہ جمہوری عراق کے لیے بہت قربانیاں دیں مگر ان کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہم بغداد کے ساتھ باہمی شراکت کی بنیاد رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں آزاد کردستان کے لیے ریفرینڈم کا فیصلہ کرنا پڑا۔ اگر ہم بغداد کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے میں کامیاب ہوجاتے تو کردستان میں ریفرینڈم کبھی نہ کراتے۔

اسی انٹرویو میں مسعود بارزانی نے کہا کہ میں نے سنہ 1962ء میں بندوق تھامی۔ میرا اس وقت بھی اصل مقصد کرد قوم کے لیے ایک خود مختار ریاست کا قیام تھا۔

مگرگذشتہ اتوار کو انہوں نے اپنے سابقہ موقف سے ہٹ کر بات کی اور کہا کہ بغداد کے ساتھ حل طلب مسائل کا واحد حل کردستان میں آزادی کا ریفرینڈم تھا۔ ریفرینڈم کا انعقاد تمام کرد سیاسی قوتوں کا متفقہ فیصلہ تھا۔

خیال رہے کہ عراق کے صوبہ کردستان میں ستمبر کے آخر میں ہونے والے ریفرینڈم نے اربیل اور بغداد کے درمیان ایک نئی کشیدگی پیدا کی ہے۔ عراقی فوج نے آپریشن کر کے کئی علاقوں سے کرد فوج کو نکال کر وہاں پر اپنا کنٹرول قائم کیا ہے۔

کردوں میں اختلافات میں شدت

آزاد کردستان کا مطالبہ اپنی جگہ مگر سوال یہ ہے کہ کیا تمام کرد سیاسی قوتیں خود مختاری کی حامی ہیں۔ اس کا جواب کرد دھڑوں میں پائے جانے والے اختلافات سے ملتا ہے۔

خود مسعود بارزانی نے اپنے آخری خطاب میں حریف کرد سیاسی جماعت ’کردستان نیشنل الائنس‘ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ’خائن‘ قرار دیا۔ بارزانی نے الائنس پر الزام عاید کیا کہ اس نے کردستان کے آزادی ریفرینڈم میں غیر معمولی سستی کا مظاہرہ کیا اور بغداد کے ساتھ متنازع علاقوں سے وہ تیزی کے ساتھ باہر نکل گئی۔ سرحدی گذرگاہوں کا کنٹرول بھی عراقی فوج کے حوالے کردیا گیا۔ ان کا اشارہ 16 اکتوبر کے بعد عراقی فوج کے آپریشن کے دوران کرکوک میں کرد فورسز کا مزاحمت کے بغیر تمام سرکاری تنصیبات چھوڑنے کی طرف تھا۔

مسعود بارزانی نے کہا کہ 16 اکتوبر کی شب جو کچھ ہوا وہ ہمارے لیے انتہائی افسوسناک ہے۔ ہمیں کرد نیشنل الائنس سے اتنی بڑی خیانت کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ کرد جماعت نے عراقی فوج کے لیے راستے کھول دیے۔ یہ اقدام کردوں کی پیٹھ میں زہر میں ڈوبا خنجر پیوست کرنے کے مترادف ہے۔ کرد نیشنل الائنس نے بزدلی کا مظاہرہ کر کے البیشمرکہ فورس اور کردستانی قوم کو بھی شکست خوردگی سے دوچار کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مسعود بارزانی کی تنقید کا ایک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی حریف سیاسی قوتوں کو صوبائی حکومت میں اقتدار حاصل کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ اگر عراقی فوج بعض کرد علاقوں پرکنٹرول حاصل نہ کرتی تو خود کردوں کے درمیان لڑائی کا اندیشہ تھا کیونکہ تمام کرد تنظیمیں مسلح ہیں۔ پورے صوبے میں ہر طرف اسلحے کے انبار ہیں جو کسی بھی وقت خانہ جنگی کا موجب بن سکتا ہے۔