.

پارلیمانی انتخابات 15 مئی 2018 کو ہوں گے : عراقی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی کابینہ کے ایک اعلان کے مطابق ملک میں پارلیمانی انتخابات 15 مئی 2018 کو ہوں گے۔

کابینہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت انتخابات کے انعقاد اور بے گھر افراد کے اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے ذمے داری پوری کرے گی۔

البتہ حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں الکٹرونک ووٹنگ ہو گی اور انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے لیے شرط ہو گی کہ ان کا کوئی مسلح ونگ نہ ہو۔

واضح رہے کہ عراق میں انتخابات کے سپریم کمیشن نے پارلیمانی انتخابات کے لیے آئندہ سال 12 مئی کی تاریخ تجویز کی تھی۔

مبصرین کے نزدیک مسلح ونگ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں شرکت سے روک دیے جانے کا فیصلہ عراق میں اندرونی محاذ پر اختلافات کو بھڑکا سکتا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بعض نمایاں شخصیات آئندہ انتخابات میں شرکت سے محروم ہو سکتی ہیں جن کا ماضی میں اہم سیاسی پس منظر رہا ہے۔

ماضی میں وزیر نقل و حمل کے منصب پر کام کرنے والے موجودہ رکن پارلیمنٹ ہادی العامری اس وقت "فیلق بدر" تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں۔

اسی طرح نوری المالکی سے قریبی تعلقات رکھنے والے قیس الخزعلی مسلح ملیشیا "عصائب اهل الحق" کے سربراہ ہیں۔

جہاں تک حزب الدعوہ کے سابق رہ نما اور سابق رکن پارلیمنٹ انجینئر ابو المہدی کا تعلق ہے تو وہ شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے اہم رہ نما شمار کیے جاتے ہیں۔

الحشد الشعبی ملیشیا میں شامل ایک اہم گروپ "ابو الفضل العباس" فورسز کے سکریٹری جنرل اوس الخفاجی سال 2010 تک الصدری گروپ کے صف اوّل کی شخصیات میں سے تھے۔

وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے پارلیمانی انتخابات کی تاریخ متعین کرنے کے فیصلے کو امریکی تائید حاصل ہے۔ امریکا نے 2018 میں عراق میں انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی سپورٹ کا اعلان کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے باور کرایا ہے کہ وہ آزاد اور شفاف انتخابات کرانے کے لیے عراق کو لوجسٹک معاونت فراہم کرے گا۔