.

یمن کےدو قبائل میں خونی لڑائی ایک لڑکی نے کیسے ختم کرائی؟

زمین پر گیارہ سال سے جاری تنازع کے حل میں تمام بڑے ناکام رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بعض لوگ عورتوں کو کم عقل قرار دیتے ہیں مگر بسا اوقات ایک عورت کی دانش مندی بڑے بڑے منجھے ہوئے جرگہ داروں کے فیصلوں پر بھی بھاری ثابت ہوتی ہے۔

اس کی ایک تازہ مثال ہمیں یمن میں ملتی ہے جہاں ایک لڑکی نے تن تنہا گیارہ سال سے دو قبائل کے درمیان زمین کے ٹکڑے پر جاری تنازع کو حل کرکے سب کو حیران کردیا، حالانکہ اس خونی لڑائی کو ختم کرانے کے لیے مقامی سماجی رہ نماؤں، قبائلی عمائدین اور حکومتی نمائندوں نے بھی سرتوڑ کوششیں کیں جو ناکام رہیں۔ اس لڑائی میں کم سے کم 60 افراد کی جانی چلی گئیں اور 130 زخمی ہوچکے ہیں۔ لڑائی میں مرنے اور زخمی ہونے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ یمن کی شمال مغربی گورنری حجۃ کے دو قبائل بنی بدر اور بیت القاعدی کے درمیان زمین کے ایک ٹکڑے پر تنازع سے شروع ہوا۔ اگرچہ تنازع گیارہ سال سے چلا آرہا تھا مگر سنہ 2012ء کے بعد یہ خونی لڑائی کی شکل اختیار کرگیا اور اس نے دور جاھلیت کی یاد تازہ کردی۔

یمنی سماجی کارکن سمیہ احمد الحسام نے بتایا کہ ایک قدامت پرست معاشرے میں کسی لڑکی کا یوں بول پڑنا خود کو آزمائش میں ڈالنے سے کم نہیں مگر اس نے ہمت کرکے اس تنازع کے حل کا عزم کیا اور وہ بالآخر اس میں کامیاب رہی ہیں۔

سمیہ الحسام نے بتایا کہ اس نے متنازع جگہ پر تنازع کے بنیادی اسباب کا جائزہ لیا اور اس کے بعد دونوں قبائل کے اہم عہدیداروں کے سامنے اس کے حل کا فارمولہ پیش کیا۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کے بعد وہ فریقین میں صلح کا معاہدہ کرانے میں کامیاب رہیں۔ دونوں قبیلے کے لوگوں کو ماضی کی غلطیوں اور لڑائی میں ہونے والے جانی نقصان پر دکھ ہے تاہم زندگی اب معمول کے مطابق گذر رہی ہے۔

خیال رہے کہ سمیہ الحسام ایک متحرک سماجی کارکن ہیں۔ انہوں نے سنہ 2013ء کو یمن نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس میں بھی شرکت کی تھی۔انہوں نے ’دائمی امن کے لیے خواتین کا ویژن‘ کے عنوان سے اپنا موقف بیان کیا۔ سمیہ کو سال 2017ء کے عرب پروگرام ‘سماجی ذمہ داریوں کی ملکہ‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔