.

وسطی شام میں اسلحہ گودام پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وسطی علاقے حمص کے قریب سرکاری فوج کے ایک اسلحہ گودام پر اسرائیل نے فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے’آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کی شام اسرائیلی جنگی طیاروں نے حمص کے قریب حسیا کے مقام پر ایک اسلحہ ڈپو پر بمباری کی۔

انسانی حقوق گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ آیا حملے کا نشانہ بننے والا گودام شامی فوج کا تھا یا حزب اللہ کے کی ملکیت تھا۔

خبر رساں ادارے’رائیٹرز‘ نے اسد رجیم کے حامی عسکری اتحاد کے ایک رہ نما کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے جنوبی حمص میں ایک کاپر فیکٹری پر بمباری کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے جواب میں ان پر زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل داغے تاہم اسرائیلی فوج کی ترجمان نے اس پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

اسد رجیم کے حامی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے حمص کے جنوب میں 35 کلو میٹر دور حسیا صنعتی شہر پر بمباری کی۔ یہ شہر دمشق کے شمال میں 112 کلو میٹر دور ہے۔ بمباری میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران اسرائیلی فوج نے شام میں اسد رجیم اور اس کی ایرانی پروردہ حزب اللہ ملیشیا کے قافلوں کو 100 سے زاید بار حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔