.

حوثیوں کے لیے اقوام متحدہ کی سپورٹ ناقابلِ قبول ہے : سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے انتہائی سخت الفاظ میں اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کی رپورٹ میں سامنے آنے والے اُس اقدام کی مذمت کی ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کی جانب سے یمنی وزارت تعلیم کو 1.4 کروڑ ڈالر پیش کیے جانے ہیں۔ یہ وزارت حوثیوں باغیوں کے زیر انتظام ہے جو یمن کے اندر اور سعودی سرحدی پر ہزاروں بارودی سرنگیں نصب کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے کمیٹی کی رپورٹ پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ اس میں حقائق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ مملکت نے زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام اداروں کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی پاسداری کرنا چاہیے جن میں قرارداد 2216 بھی شامل ہے۔ سعودی عرب کے مطابق حوثی باغی ملیشیا کے لیے اقوام متحدہ کی سپورٹ بلا جواز امر ہے جس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی یمنی سرحد پر کم از کم 50 ہزار بارودی سرنگیں

سعودی عرب کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کی مشترکہ سرحد پر نصب کی جانے والی بارودی سرنگوں کی تعداد 50 ہزار سے کم نہیں ہے۔ ان کے علاوہ گنجان آباد یمنی شہروں اور دیہات میں لاکھوں سرنگیں جب کہ سعودی سرحد کے نزدیک بحرِ احمر میں بھی سمندری بارودی سرنگیں نصب کی گئیں۔ سعودی عرب نے اس امر پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کی رپورٹ میں ان حقائق کا انکشاف نہیں کیا گیا جب کہ یہ سعودی عرب کے امن و سلامتی کے لیے بننے والے خطرے سے سنگین نوعیت کی چشم پوشی ہے۔

یہ تمام باتیں اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل وفد کی جانب سے ہونے والے خطاب میں بتائی گئیں۔

ادھر سعودی پریس ایجنسی SPA کے مطابق مملکت کے وفد نے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

بحرِ احمر میں بارودی سرنگیں

وفد کے مطابق بارودی سرنگیں پوری دنیا میں بہت بڑا خطرہ ہیں ، سعودی عرب بھی ان ممالک میں شامل ہے جس کو اپنے عوام اور سرزمین کے حوالے سے بارودی سرنگوں کے خطرے کا سامنا ہے۔ حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں نے آسانی سے چھپائی جانے والی بارودی سرنگیں تیار کی ہیں جو پتھر وغیرہ سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کی زندگی کو درپیش خطرے میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ یمنی باغیوں کی جانب سے بچھائی گئی لاکھوں بارودی سرنگوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں جن میں بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ حوثی اور صالح ملیشیاؤں کی کارستانیاں زمین بارودی سرنگوں تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے بحر احمر میں سعودی سرحد کے نزدیک بھی سمندری بارودی سرنگیں نصب کیں۔ یہ عمل بین الاقوامی جہاز رانی اور علاقائی امن کے واسطے بہت بڑا خطرہ اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔