.

عراقی : شام کے ساتھ سرحدی گزرگاہ "القائم" داعش کے قبضے سے واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں مشترکہ فورسز نے جمعے کے روز شامی سرحد کے ساتھ واقع صوبے الانبار میں القائم کی گزرگاہ کو داعش تنظیم کے قبضے سے آزاد کرا لیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق عراقی فورسز نے جمعے کے روز مغربی شہر القائم کے وسطی علاقے پر دھاوا بول دیا تھا جو عراق میں داعش تنظیم کا آخری گڑھ ہے۔

داعش نے القائم کی گزرگاہ پر 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔

مشترکہ آپریشنز کی کمان سرحدی شہر القائم پر اپنی فورسز کے کنٹرول کے بعد داعش تنظیم کے خلاف آخری معرکے کے پہلے مرحلے کے اختتام پذیر ہونے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس سلسلے مین دیگر فورسز شام کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے محلِ وقوع کا رخ کریں گی۔

اس سے قبل مشترکہ آپریشنز کی کمان نے بتایا تھا کہ اس کی فورسز نے سرحدی شہر اور عراق میں داعش تنظیم کے آخری گڑھ پر کنٹرول کو بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم کی قیادت شامی سرحد کے اندر واقع علاقے بو کمال کی جانب فرار ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلعے کے وسطی حصے پر عراقی فورسز کے دھاوے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے داعش کے 100 سے 150 جنگجو رہ گئے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق معرکے کا دوسرا مرحلہ راوہ ضلعے اور دریائے دجلہ کے اطراف واقع دیگر علاقوں میں ہو گا تا کہ اردن کے ساتھ سرحد تک پہنچا جا سکے۔ مذکورہ علاقوں کو محفوظ بنانے کے بعد عراقی فورسز تنظیم کی باقیات کو ختم کرنے کے لیے صحرائے انبار کا رخ کریں گی۔