.

کردستان کا بغداد سے اختلافات کے حل کے لیے پانچ نکاتی فارمولہ

عراقی حکومت کی اربیل کے امن فارمولے پر عدم دلچسپی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے کرد اکثریتی صوبہ کردستان کی جانب سے مرکز کے ساتھ جاری اختلافات ختم کرنے کے لیے پانچ نکاتی فارمومولہ پیش کیا گیا ہے۔ دوسری جانب عراقی حکومت نے اربیل کو دی گئی ڈیڈ لائن کے اندر جواب ملنے کے باوجود کردوں کے فارمولے پر عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

’العربیہ‘ کے مطابق ’الپیشمرگہ‘ وزارت نے فریقین میں اعتماد سازی اور حسن نیت کے ساتھ معاملات حل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ عراقی دستور کے مطابق تمام تنازعات کے حتمی حل تک ایک عبوری حل پیش کیا ہے۔

کردستان کی طرف سے عبوری حل کے طور پر درج ذیل نکات پیش کیے گئے ہیں۔

- تمام محاذوں پر سیز فائر کیا جائے

- داعش تنظیم کے خلاف کرد اور عراقی فورسز کا تعاون جاری رہے

- کردستان اور عراق کے درمیان متنازع علاقوں پر جوائنٹ سیکیورٹی فورسز تعینات کی جائیں۔ جب تک ریاستی دستور کے تحت حتمی حل نہیں نکالا جاتا اس وقت تک مشترکہ فورسز الپیشرمرکہ، عراقی فوج، عالمی مندوبین ترکی کی سرحد پر قائم فیشخاپور گذرگاہ کا کنٹرول مل کر سنبھالیں۔

- فریقین آپس میں سیاسی بات چیت کا آغاز کریں۔

دوسری جانب اربیل نے الزام عاید کیا ہے کہ بغداد نے اس کی امن تجاویز کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ ایسے لگتا ہے کہ عراقی حکومت کردستان کی طرف سے امن مساعی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ کرد حکام کا کہنا ہے کہ متنازع علاقوں پر مشترکہ سیکیوٹی فورسز کی تعیناتی، ترکی کی سرحد پر قائم چیک پوسٹ پر نگرانی کے لیے کرد، عراقی اور داعش کے خلاف سرگرم اتحاد کے مندوبین کو شامل کرنے کی تجویز برمحل ہے مگر بغداد کی طرف سے اس تجویز کا کوئی گرم جوش جواب نہیں دیا گیا۔

کردستان کی صوبائی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ بغداد اور اربیل کے درمیان تناؤ کی موجودہ کیفیت برقرار رہی تو اس کے نتیجے میں کوئی نیا المیہ رونما ہوسکتا ہے اور اس کا نقصان ایک عام عراقی شہری کو ہوگا۔

دو روز قبل ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ عراقی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ عسکری وفد کے کرد حکام کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور فریقین کسی حتمی حل تک پہنچنے کے قریب ہیں تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔