.

"خود کشی" راز اِفشا ہونے سے بہتر ہے : بن لادن کی بیٹے کو ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ تنظیم کی جانب سے اپنی قیادت کو ہدایت دی گئی تھی کہ جب کبھی سکیورٹی اداروں کے قبضے میں آنے کا اندیشہ ہو تو وہ خود کشی کو ترجیح دیں تا کہ تنظیم ، اس کے حامیوں اور اس کی فنڈنگ کرنے والوں کے حوالے سے راز اِفشا نہ ہو سکیں۔ اس بات کا انکشاف امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے بدھ کے روز جاری ہونے والے اُن دستاویزات سے ہوا جو مئی 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے برآمد ہوئی تھیں۔

اسامہ بن لادن سے منسوب ایک طویل خط میں القاعدہ کے سربراہ نے تنظیم کے اہم رہ نماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ قید میں جانے سے بچنے کے لیے آسان ترین طریقے سے اپنی زندگی کو ختم کر لیں۔

عبدالله الحلبی اور مالی رقوم کی فراہمی کی کارروائی

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ خط کے لکھے جانے کے وقت یہ القاعدہ کے سربراہ کے ایک بیٹے کے نام تھا جس نے خود کو "عبد الله الحلبی" کی عرفیت اپنا رکھی تھی۔ وہ "سعد" کی عرفیت سے مشہور ایک شخص کے توسط سے مالی رقوم اسامہ بن لادن تک پہنچانے کا ذمے دار تھا۔

خط میں عبداللہ الحلبی سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ وہ انتہائی نا گزیر صورت میں خود کشی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہے اور اس کے علاوہ رازوں کے اِفشا کے اندیشے سے خود کشی کرنے کے شرعی حکم کے بارے میں "عبدالعزیز الجربوع" کی تحقیق کا مطالعہ بھی کرے۔ ساتھ ہی دیگر ساتھیوں کو بھی اس تحقیقی مقالے کو پڑھنے کی ہدایت کی گئی۔

الجربوع نے انٹرنیٹ پر جاری اپنی کتاب میں ایک فتوی شامل کیا تھا جس میں سکیورٹی حکام کے قبضے میں آںے یا قیدی بنا لیے جانے کے اندیشے کے وقت خود کشی کا جواز بتایا گیا۔ کتاب میں واضح کیا گیا تھا کہ راز دو نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اگر راز انتہائی قیمتی نوعیت کا نہیں تو پھر اس کے حامل رکن کو اپنی زندگی ختم کرنا جائز نہیں ہوگا۔ البتہ اگر راز کا حامل کوئی اہم شخصیت مثلا تنظیم کا کوئی کمانڈر ہے تو ایسی صورت میں اس کا خود کو حوالے کرنا جائز نہیں ہوگا جب کہ ایسے شخص کو غالب گمان ہو کہ وہ اپنے راز اِفشا کر دے گا۔ ایسی صورت میں خود کو ختم کرنے پر یہ شخص شہید شمار ہوگا۔

کتاب کے مؤلف الجربوع نے اپنے فقہی موقف کو مضبوط اور مدلل بنانے کے لیے سعودی مفتی محمد بن ابراہیم (مرحوم) کا حوالہ دیا ہے جو انہوں نے الجزائر کی آزادی کے لیے جاری جنگ کے سلسلے میں دیا تھا۔ الجربوع نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ "شیخ محمد بن ابراہیم کا فتوی ہر اس شخص کی کمر توڑ دینے والا ہے جو یہ سوال کرے کہ تم سے پہلے ایسا فتوی کس نے دیا۔ اس فتوے کے ملنے کے بعد مجھے ایسے شخص کے لیے خود کشی کے واجب ہونے میں کوئی بھی تردد نہیں تا کہ مسلمانوں کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے"۔

اس کے علاوہ الجربوع نے کالعدم تنظیم الاخوان المسلمین کے مصری رہ نما حسن ایوب کے فتوے کا بھی سہارا لیا ہے۔ جو انہوں نے اپنی کتاب "الجهاد والفدائية في الإسلام" (صفحہ 247 - 248)، میں اس عمل کے جواز میں دیا۔ بنیادی طور پر فلسطینیوں کے لیے دیے جانے والے اس فتوے میں انہوں نے کہا کہ اگر سبب مضبوط اور ٹھوس ہو اور مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں خود کشی کا عمل جائز ہو گا۔ مثلا کسی شخص کے قیدی بنا لیے جانے کی صورت میں اسے مسلمان فدائیان کے ناموں اور ٹھکانوں کے اِفشا ہو جانے کا اندیشہ ہو۔