.

سعد حریری کے قتل کی سازش کی مصدقہ اطلاع تھی: سعودی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خلیج امور ثامر السبھان نے کہا ہے کہ لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد الحریری کی سکیورٹی کو ان کے قتل کی سازش سے متعلق مصدقہ اطلاع تھی۔

انھوں نے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹیلی ویژن چینل مستقبل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم سعد حریری کی جان کو خطرہ تھا اور سعودی عرب کو ان کے تحفظ کے حوالے سے گہری تشویش لاحق تھی۔انھوں نے بتایا ہے کہ سعد الحریری الریاض میں ہیں اور انھوں نے یہیں سے ہفتے کے روز اپنے استعفے کا اعلان کیا تھا۔

ثامر السبھان نے کہا کہ ’’ سعودی عرب دہشت گرد ریاست ایران سے ایک مختلف ملک ہے۔ہم اختلاف رائے کے باوجود لبنانی جماعتوں کا احترام کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے لبنان کے ایک اور ٹیلی ویژن چینل ایل بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’’سعد الحریری اپنے وطن واپس جانے کے لیے بالکل آزاد ہیں لیکن ہم حریری خاندان کے خلاف مزید دھماکے اور تباہی نہیں چاہتے ہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے ماضی میں سعد الحریری کے ہر موقف کی حمایت کی تھی اور لبنانی صدر کے انتخاب سے متعلق سمجھوتے کی بھی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ سعودی مملکت نے سعدالحریری کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفا دینے کا نہیں کہا تھا۔

سعودی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ’’ ہمیں حزب اللہ کی وجہ سے لبنان کی صورت حال پر افسوس ہے۔ہم وہاں امن پر زوردیتے ہیں لیکن جو لوگ مملکت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ،وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ حزب اللہ نے شام کی لڑائی کو لبنان منتقل کرنے اور لبنان اور عرب ممالک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے‘‘۔انھوں نے سوال کیا ہے کہ ’’ حزب اللہ اور داعش میں کیا فرق ہے؟‘‘