.

طارق رمضان اپنی طالبات کو جنسی حملوں کا نشانہ بناتا تھا: سوئس رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہفتے کے روز 4 سوئس خواتین نے مصری تنظیم الاخوان المسلمین کے بانی کے پوتے طارق رمضان پر جنسی حملے کے الزامات عائد کر دیے۔

سوئٹزرلینڈ کے ایک مؤقر اخبار "ٹریبیون ڈی جنیوا" کی رپورٹ کے مطابق ان میں ایک شکایت گزار کو کم عمری کے وقت نشانہ بنایا گیا جب کہ رمضان اس وقت شادہ شدہ تھا۔

اخبار نے مزید بتایا ہے کہ رمضان نے کئی برسوں تک اپنی ایک 14 سالہ طالبہ کو پُھسلانے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا۔ البتہ رپورٹ کے مطابق رمضان تین دیگر لڑکیوں کے ساتھ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا جن کی عمریں 15 سے 18 برس کے درمیان تھیں۔

مذکورہ طالبات نے بتایا کہ طارق رمضان نے جب انہیں جنسی حملے کا نشانہ بنایا تو وہ سب اس کی طالبات تھیں جہاں اس نے بطور استاد اپنے اختیار کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ واقعات گزشتہ صدی کی 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں پیش آئے جب رمضان Cycle of Coudrier اور College de Saussureمیں فرانسیسی زبان اور فلسفہ پڑھاتا تھا۔

رپورٹ تیار کرنے والی خاتون کے مطابق چاروں خواتین غیر مسلم ہیں اور وہ معاملے کے حساس ہونے اور گھریلو وجوہات کی بنا پر اپنی شناخت کو صیغہ راز میں رکھنا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ تمام خواتین سوئٹزرلینڈ میں انسانی حقوق کی کارکن بھی ہیں۔