.

مصری اپیل کورٹ کا محمد بن جاسم کے قانونی تعاقب کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اپیل کورٹ نے سابق معزول صدر محمد مرسی کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کی اپنی اہلیت بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ عدالت قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم کا قانونی تعاقب بھی جاری رکھے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری اپیل کورٹ نے کہا ہے کہ قطر کے لیے جاسوسی کیس میں سابق معزول صدر محمد مرسی اور دیگر ملزمان کو جو فیصلہ سنایا گیا ہے اس پر کسی کو اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے باور کرایا ہے کہ وہ سابق قطری وزیراعظم محمد بن جاسم کے خلاف بھی اس کیس کو آگے بڑھائے گی اور ان کا قانونی تعاقب کیا جائے گا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ محمد بن جاسم کے کیس کی اب تک تحقیقات نہیں گئی۔ تحقیقات کے لیے یہ کیس پراسیکیوٹر جنرل کو بھیج دیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل حمد بن جاسم کیس کے حوالے سے موجودہ شواہد اور فوج داری نوعیت کے جرائم بالخصوص ایک غیر ملک کی جاسوسی، ملک کے مفاد کو نقصان پہنچانے میں مدد کرنے، ملک کے دفاعی، سیاسی، سفارتی اور اقتصادی اداروں کو نقصان پہنچانے اور مصر کے قومی مفاد کو خطرے میں ڈالنے کے لیے رقوم مہیا کرنے جیسے الزامات کی چھان بین کرے گا۔

عدالت کا مزید کہنا ہے کہ ملزم حمد بن جاسم کے کیس کے باریکی سے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم سنگین نوعیت کے فوج داری جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے مصر کی جاسوسی کے ساتھ مصر کے قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کے رشوت کے طور پر اپنے ایجنٹوں کو خطیر رقوم فراہم کیں مگر ان کے اس جرم کی کسی عدالت کی طرف سے تحقیقات نہیں کی گئیں۔

خیال رہے کہ مصر کی ایک فوج داری عدالت نے قطر کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں اخوان المسلمون کے احمد عفیفی، محمد عادل اور احمد اسماعیل کو سزائے موت، معزول صدر محمد مرسی کو 40 سال قید، ان کے پرنسپل سیکرٹری احمد بعدالعاطی کو عمر قید، کریمہ الصیرفی کو 15 سال قید، خالد حمدی، عبدالوھاب، محمد عادل کیلانی، اسماء محمد الخطیب، علاء عمر سبلان اور ابراہیم محمد ھلال کو 15، 15 سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی۔ مصر کی اپیل کورٹ نے محمد مرسی اور ان کے 10 ساتھیوں کی جانب سے اپیل کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے کیسز کی دوبارہ سماعت کی اور سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا جب کہ سابق صدر محمد مرسی کی 40 سال قید کی سزا بھی کالعدم قرار دی تھی۔