.

یونانی وزیراعظم نے افغان بچے سے ملاقات کیوں کی؟

افغانی ’امیر‘ کو یونانی پرچم کا تحفہ، پناہ گزین مخالف عناصر مایوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان کے وزیراعظم الکسیس زیبراس نے کل ہفتے کوایک گیارہ سالہ افغان پناہ گزین بچے سے ملاقات کی اور اسے یونان کا قومی پرچم اپنی جانب سے تحفے میں دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یونانی وزیراعظم نے افغان بچے کی حوصلہ افزائی کی اور ملک میں پناہ گزینوں کے خلاف سرگرم عناصر کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایتھنز انسانی ہمدردی کے تحت پناہ گزینوں کو ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

خیال رہے کہ گیارہ سال ایک افغان بچےکو اتیھنز میں اس کے اسکول کی طرف سے یونان کے قومی دن کی تقریب کے دوران سرکاری پرچم ہاتھ میں پکڑنے سے روک دیا تھا۔ حالانکہ قرعہ اندازی میں تقریب کے دوران ایتھنز کا جھنڈا لہرانے کے لیے گیارہ سالہ افغانی ’امیر‘ نامی بچے کا نام سامنے آیا تھا۔

یونان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’ انا‘ کے مطابق وزیراعظم زبیراس نے افغان بچے کو تسلی دی اور کہا کہ انہوں نےآپ کو یونان کا پرچم پکڑنے کی اجازت نہیں دی۔ میں تمہیں ملک کا پرچم تحفے میں دیتا ہوں۔

بعد ازاں سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں وزیراعظم نے کہاکہ بعض لوگوں نے ننھے افغان طالب علم امیر کو ہمارا پرچم پکڑنے سے محروم کیا۔ آج میں نے اسے اپنا قومی پرچم ھدیہ کیا ہے تاکہ وہ ہمارے اصولوں اور اقدار کو یاد رکھے اور ان کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرے۔

قبل ازیں جمعہ کے روز نامعلوم افراد نےایتھنز میں امیر کے گھر پر حملہ بھی کیا۔ جب کہ اس کے اسکول کی انتظامیہ نے نسل پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امیر کو قومی پرچم کو ہاتھ لگانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔