.

’شام آنے والے زائرین کو اسد رجیم کے دفاع کے لیے اسلحہ دیا گیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں لڑنے والی ایک عراقی شیعہ ملیشیا ’النجباء‘ کے سیکرٹری جنرل اکرم الکعبی نے اعتراف کیا ہے کہ بیرون ملک ہماری فورسز پرعراقی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ شام میں لڑنے والے النجباء ملیشیا کے جنگجو مسافروں کا ایک گروپ ہے، جو فطری اور باضابطہ طور پر اسد رجیم کے دفاع میں اسلحہ اٹھاتے ہیں۔

لبنانی حزب اللہ کے مقرب اخبار’الاخبار‘ کو دیےگئے ایک انٹرویو میں الکعبی نے اعتراف کیا النجباء ملیشیا اور شام میں بشار الاسد کے دفاع میں لڑنے والی تمام ملیشیائوں کے جنگجو عراق سے شام میں داخل ہوئے۔ وہ زائرین کے طور پر شام جاتے جہاں اسلحہ ان کا انتظار کررہا ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ عقاید کے اعتبار سے النجباء ملیشیا ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفادار ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے کے لیے اپنے جنگجو بھیجنے والی ملیشیاؤں میں ایک النجباء بھی ہے۔ یہ گروپ دمشق کے مشرقی علاقوں میں باغیوں کے خلاف لڑنے کے ساتھ حمص کے نواحی علاقوں، دیر الزور، حلب اور کئی دوسرے علاقوں میں بھی سرگرم رہا ہے۔

اسرائیل کے خلاف جنگ

ایک سوال کے جواب میں النجباء ملیشیا کے سیکرٹری جنرل نے عراق کے صوبہ کردستان میں آزادی ریفرینڈم کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے ایرانی جنرل الحاج قاسم سلیمانی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ جنرل سلیمانی نے کردستان کا بحران ختم کرانے میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اکرم الکعبی نے تسلیم کیا کہ ’گولان آزادی بریگیڈ‘ اس وقت شام میں لڑ رہا ہے۔ اگر شامی حکومت نے وادی گولان اسرائیل سے آزاد کرانے کے لیے جنگ شروع کی تو یہ بریگیڈ بھی شامی فوج کی مدد کرے گا۔

الکعبی کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو تمام مزاحمتی قوتیں جن میں النجباء ملیشیا بھی شامل ہے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف لڑیں گی۔

انہوں نے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل کے ساتھ جنگ چھڑتی ہے تو صہیونی ریاست کا مقابلہ تنہا حزب اللہ نہیں کرے گی بلکہ دنیا بھر کی مزاحمتی قوتیں اسرائیل کے خلاف متحد ہوں گی۔