.

سعد حریری نے سعودی عرب کے دباؤ پر استعفیٰ دیا: حسن نصراللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سعد حریری کے وزارت عظمیٰ سے استعفے پر سعودی عرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حریری نے استعفیٰ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ سعودی عرب کے ایماء پر دیا ہے۔ استعفے کا فیصلہ ان کا ذاتی ہرگز نہیں ہوسکتا۔ انہیں سعودیہ کی طرف سے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا۔

ایک وڈیو بیان میں حسن نصراللہ نے کہا کہ لبنان کی تمام سیاسی قوتوں کے لیے سعد حریری کا استعفے کا اعلان حیران کن ہے۔ اس استعفے کے پیچھے لبنان کے اندرونی مسائل کا کوئی عمل دخل نہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے لبنانی عوام کو یقین دلایا کہ وہ تنظیم کی طرف سے مطمئن نہیں۔ حزب اللہ ملیشیا کو لبنان کے امن کو تباہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔

ادھر لبنانی پارلیمنٹ میں شامل ’فیوچر بلاک‘ کے رکن پارلیمان عقاب صقر نے کہا کہ سعد حریری کے استعفے کا حقیقی سبب ان کی وطن واپسی کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا سعودی عرب کے ساتھ صلاح مشورہ لبنان کے مفاد میں ہے۔

خیال رہے کہ سعد حریری نے سعودی عرب میں ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے قتل کی سازش کا انکشاف کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے لبنان کے بحران کو گھمبیر کرنے اور ریاستی اداروں میں مداخلت پر ھزب اللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ الحدث ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سعد حریری نے کہا کہ اب یہ صدر مملکت پر مںحصر ہے کہ وہ ملک کو غیر جانب دار انداز میں آگے بڑھائیں۔