.

سعودی صوبے عسیر کے نائب گورنر کے ساتھ حادثے میں کون جاں بحق ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کی شام سعودی عرب میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر کے افسوس ناک حادثے میں عسیر صوبے کے نائب گورنر شہزادہ منصور بن مقرن جاں بحق ہو گئے۔ وہ مملکت کے جنوب مغرب میں واقع ضلعے البرک کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے کہ اس دوران بحر احمر کے ساحل پر تہامہ کے علاقے میں ان کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں نائب گورنر کے ہمراہ بعض دیگر ذمے داران بھی جاں بحق ہوئے۔

عسیر کے سکریٹری

عسیر صوبے کے سکریٹری سلیمان بن محمد بن سلیمان الجریش کو 24 نومبر 2014 کو اس عہدے پر مقرر کیا گیا۔ الجریش نے اسلامک اسٹڈیز میں بیچلرز اور فوجداری قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے مختلف انتظامی اور قانونی شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ الجریش متعدد سرکاری اور قومی تنظیموں اور اداروں کے رکن بھی تھے۔

محایل عسیر کے حاکم

عسیر کے ضلعے محایل کے حاکم محمد بن سعود بن عبدالعزيز ابو نقطہ المتحمی کو اس منصب پر 19 مئی 2015 کو مقرر کیا گیا۔ انہوں نے میڈیا اور جنرل انفارمیشن میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ المتحمی نے حالیہ منصب سے پہلے متعدد عہدوں پر اپنے فرائض سر انجام دیے۔ وہ بیشہ ضلعے کے حاکم بھی رہ چکے تھے۔ انہوں نے زراعت ، تجارت ، صنعت و حرفت سمیت تمام شعبوں میں محایل کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا یہاں تک کہ وہ مملکت کے معروف ترین ضلعوں میں سے بن گیا۔ المتحمی پیشہ ورانہ زندگی کا 30 سالہ تجربہ رکھتے تھے۔ وہ متعدد حکومتی اور ثقافتی اداروں کے رکن بھی تھے۔

عسیر کے میئر

عسیر صوبے کے میئر صالح القاضی صوبے کی 33 بلدیات کے سربراہ تھے۔ انہوں نے زراعتی انجینئرنگ میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ 9 اپریل 2015 کو عسیر صوبے کے میئر مقرر ہوئے۔ اس سے قبل وہ مدینہ منورہ صوبے کے میئر کے طور پر بھی کام کر چکے تھے۔ القاضی متعدد سکرکاری اور سماجی تنظیموں اور ادروں کے اہم رکن کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔

عسیر صوبے کے محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل

انجینئر فہد بن سعید الفرطیش 28 اگست 2011 کو عسیر صوبے کے محکمہ زراعت کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ اس سے قبل وہ نجران صوبے کے محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر تھے۔

ہیلی کاپٹر کا کپتان اور دیگر ساتھی

حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں شہزادہ منصور کے ذاتی دوست سعود السہلی ، کیپٹن عبداللہ الشہری اور عسیر صوبے کے پروٹوکول چیف خالد بن حمید شامل ہیں۔

ان کے علاوہ ہیلی کاپٹر کے کپتان نایف وصل اللہ الربیعی بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ طائف میں پیدا ہوئے اور طائف میں ہی تعلیم حاصل کی۔ الربیعی نے سال 2009 میں جازان صوبے میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ہونے والی جنگ میں بھی شرکت کی تھی۔ وہ ایک ماہ قبل ایک تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد امریکا سے واپس مملکت پہنچے تھے جہاں موت ان کا انتظار کر رہی تھی۔