.

لبنانی صدر نے ابھی تک سعد حریری کا استعفاء قبول نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں صدراتی محل کے ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ صدر میشیل عون نے ابھی تک وزیراعظم سعد حریری کا استعفاء قبول نہیں کیا ہے ، میشیل عون مستعفی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات اور ان کے اس اقدام کی وجوہات پر بات چیت کے منتظر ہیں۔

ادھر لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے حریری کے مستعفی ہونے کے پیچھے کسی بھی اندرونی سبب کو خارج از امکان قرار دیا۔ نصر اللہ کے مطابق حریری نے مملکت سعودی عرب کے فیصلے پر استعفاء دیا۔

البتہ گزشتہ برسوں پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہو جائے گا اور تجزیہ کاروں کے نزدیک بھی حزب اللہ نے لبنان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے کام میں کس طرح مسلسل رکاوٹیں کھڑی کیں جس کے نتیجے میں کئی سیاسی اور اقتصادی بحرانات نے جنم لیا۔

سعد حریری نے ہفتے کے روز ایک ٹیلی وژن خطاب میں اپنے قتل کے منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے وزارت عظمی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے لبنان کی صورت حال کو بحرانی کیفیت سے دوچار کرنے کے سلسلے میں ایران اور حزب اللہ کے کردار کی سخت مذمت بھی کی۔

حریری نے الحدث نیوز چنیل کو دیے گئے بیان میں کہا کہ " اب لبنان کے صدر سے یہ مطلوب ہے کہ وہ براہ راست طور پر ریاست کو غیر جانب دار بنانے کے لیے کام کریں"۔