.

یمن کے مطلوب دہشت گردوں میں سرِفہرست عبدالملك الحوثی کون ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اتوار کے روز ایک فہرست جاری کی ہے جس میں یمن میں ایرانی ملیشیا کے 40 مطلوب دہشت گردوں کے نام دیے گئے ہیں۔ ان میں حوثیوں کا سرغنہ عبدالملک بدرالدین الحوثی سرِفہرست ہے اور اس کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے 3 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے تحت عبدالملک کا نام پابندیوں کے حوالے سے بلیک لسٹ میں شامل کیا جا چکا ہے۔ اس پر یمن میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

تاہم یہ عبدالملک الحوثی ہے کون اور بہت سے لوگ اسے حسن نصر اللہ کا دوسرا ورژن کیوں قرار دیتے ہیں ؟

پیدائش اور پرورش

عبدالملک الحوثی 1979 میں یمن کے صوبے صعدہ کی گورنری ضحیان میں پیدا ہوا۔ وہ حوثیوں کے روحانی پیشوا بدر الدین الحوثی کا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔ بدر الدین نے 1994- 2002 تک 8 سال کا عرصہ ایران میں گزارا۔ 1990ء کی دہائی کے وسط تک عبدالملک صعدہ میں رہا اور پھر دارالحکومت صنعاء منتقل ہو کر اپنے بڑے بھائی حسین کا ذاتی محافظ بن گیا جو حوثی ملیشیا کا بانی اور روحانی باپ تھا اور ساتھ ہی یمنی پارلیمنٹ کا رکن بھی تھا۔

تعلیم

عبدالملک الحوثی کے پاس باقاعدہ طور پر کوئی تعلیمی سند نہیں اور اس نے زندگی میں اسکول کی شکل نہیں دیکھی۔ اس کے والد نے اپنے بیٹے کو دینی تعلیم دینے پر اکتفا کیا اور پھر 18 برس کی عمر میں "دینی علوم سے متعلق اجازت" بھی مرحمت فرما دی۔ یہاں سے ایران کو موقع مل گیا کہ وہ لبنان میں اپنے ایجنٹ حسن نصر اللہ سے مطابقت رکھنے والا ایک اور ورژن تیار کرے۔ دونوں شخصیات بے دھڑک اپنے ملک میں ایران کے پرچم اور نعرے بلند کرتے ہیں اور تہران کے توسیع منصوبے کے ضمن میں ایران کے احکامات کو بجا لانے میں کوئی کسر نہیں رہنے دیتے۔

ذاتی محافظ جماعت کا سرغنہ بن گیا

سال 2004 میں بدرالدین الحوثی کا سب سے بڑا بیٹا صعدہ میں بغاوت کے دوران سرکاری فوج کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے بعد عبدالملک الحوثی اپنی کم عمری اور ناتجربہ کاری کے باوجود اپنے باپ کی سپورٹ سے حوثی جماعت کا کمانڈر بن گیا۔ وہ اپنے مقتول بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 2010 تک ریاست میں بغاوت اور خانہ جنگی بھڑکاتا رہا۔ اس دوران وہ ایرانیوں اور حزب اللہ کے ماہرین سے خطابت اور گفتگو کی تربیت حاصل کرتا رہا اور پھر یمن میں ایرانی منصوبے کا اول نمبر کا ایجنٹ بن گیا۔

معزول صالح کا جادو اسی پر اُلٹا ہو گیا

بہت سے یمنی تجزیہ کار ارو سیاسی شخصیات کا اس بات پر اتفاق ہے کہ معزول صدر علی عبداللہ صالح وہ شخصیت ہے جس نے گزشتہ صدی میں 90ء کی دہائی کے آغاز سے حسین الحوثی کو ایران کے ساتھ تعلق اور رابطے پر سراہا۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں ایسی متنازعہ مذہبی جماعتوں کو جنم دینا تھا جو علی صالح کے اقتدار کی کرسی سے چمٹے رہنے کی ضمانت بن جائیں۔ تاہم یہ جادو اُلٹا ہو گیا اور ایران کی جانب سے اسلحے اور فنڈنگ کی بھرپور فراہمی کے بعد حوثیوں نے علی صالح کے خلاف ہی بغاوت کا اعلان کر دیا۔ حوثیوں نے 2011 میں علی صالح کی حکومت کے خلاف انقلاب سے فائدہ اٹھایا اور خود کے "آئینی حکومت کے خلاف باغی تحریک" سے بدل کر عوامی احتجاجی تحریک کا حصہ بن جانے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں جب تہران نے موقع غنیمت جانا تو ستمبر 2014 میں حوثیوں کو آئینی حکومت کا تختہ الٹ دینے اور ان کے پرانے دشمن معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ مل کر بغاوت کر دینے کی ہدایت کی۔