.

نیتن یاھو کی ’مقتولین‘ پر فلسطینیوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے سرنگ پر بم باری کے دوران مارے گئے پانچ مزاحمت کاروں کی لاشیں قبضے میں لینے کے بعد ان کی واپسی پر فلسطینیوں کو بلیک میل کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔

نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ وہ تحویل میں لی گئی فلسطینیوں کی لاشوں کو ’حماس‘ کے قبضے سے اپنے فوجیوں کی میتیں واپس لینے کے لیے استعمال کریں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے غزہ کی پٹی کے سرحدی علاقے میں ایک سرنگ پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں سات فلسطینی شہید، تیرہ زخمی اور پانچ لاپتا ہوگئے تھے۔

اتوار کی شام اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سرنگ میں لاپتا ہونے والے اسلامی جہاد کے پانچ کارکنوں کی لاشیں قبضے میں لے لی ہیں۔

شمالی اسرائیل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ عبرانی ریاست مفت میں تحائف پیش نہیں کرے گی۔ ان کا اشارہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی میتوں کی طرف تھا جنہیں فوج نے حال ہی میں سرنگ سے نکال کر قبضے میں لے لیا تھا۔

نیتن یاھو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم دو سادہ اصولوں پر قائم ہیں۔ اول یہ کہ جو ہم پرحملے کی کوشش کرے گا ہم اس پرحملہ کریں گے۔ دوم یہ کہ ہم کسی کو مفت میں تحائف نہیں دیں گے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بیٹوں کو واپس کرائیں گے۔ مفت میں تحائف نہیں دیں گے۔

واضح رہے کہ سنہ 2014ء کو غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران اسرائیل کے دو مقتول فوجیوں ارون شاؤل اور ھدار گولڈین کو فلسطینی مزاحمت کاروں نے قبضے میں لے لیا تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان دنوں کی باقیات حماس کے پاس ہیں۔ ان کے علاوہ تین یہودی آباد کار بھی حماس کے پاس ہیں۔ وہ تینوں ذہنی توازن درست نہ ہونےکے باعث غزہ میں داخل ہوگئے تھے جنہیں حماس نے یرغمال بنا لیا تھا۔