.

حوثیوں کی بحرِ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کے ترجمان محمد عبدالسلام نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں دھمکی دی ہے کہ اگر یمن کے مغربی ساحل پر بحر احمر میں عرب اتحاد اور یمنی آئینی حکومت کی فورسز کی جانب سے کسی بھی قسم کی عسکری نقل و حرکت ہوئی تو بحر احمر میں تجارتی بحری جہازوں اور تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا یا پھر متعلقہ بندرگاہوں کو بند کر دیا جائے گا۔

حوثیوں کی جانب سے بحر احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی پر ضرب لگانے کی نئی حوثی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب باغی ملیشیا اپنے پاس سمندری میزائل ہونے کا انکشاف بھی کر چکی ہے۔ حوثیوں کا دعوی ہے کہ المندب نامی یہ میزائل مقامی طور پر تیار کردہ ہیں جب کہ بعض رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ ایرانی ساخت کے ہیں جن کو الحدیدہ بندرگاہ کے ذریعے باغی ملیشیا کو اسمگل کیا گیا۔

صنعاء میں باغیوں کے زیر قبضہ سرکاری نیوز ایجنسی "سَبا" نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا حوثی ملیشیا کے اہم رہ نماؤں نے نئے سمندری میزائلوں کا معائنہ کیا۔ ایجنسی نے دعوی کیا کہ یہ میزائل مقامی طور پر تیار کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق باغیوں کی نام نہاد سپریم سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد نے اس سلسلے میں یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ کا دورہ بھی کیا تھا۔ الصماد کا نام سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ 40 مطلوب ترین یمنی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے جن کے سروں کی قیمت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے تشکیل دیے گئے عرب فوجی اتحاد نے عارضی طور پر یمن کی برّی، بحری اور فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عرب اتحاد کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یمن کی زمینی، فضائی اور بحری حدود کی بندش کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب باغیوں نے دو روز قبل سعودی عرب پر ایران کا فراہم کردہ ایک بیلسٹک مزائل حملہ کیا تھا۔ اگرچہ اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا تھا مگر اس کے بعد عرب اتحاد نے یمن کے باغیوں کی طرف سے مزید حملوں سے بچنے کے لیے سرحد سیل کردی ہے۔