.

حزب اللہ کے ساتھ مشترکہ انجام کار ہے : بشار الاسد کی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کی مُشیرِ اطلاعات بثینہ شعبان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ "علیحدہ" معاملہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی کیوں کہ شامی حکومت اور حزب اللہ کا "مشترکہ انجام کار" ہے۔

انہوں نے یہ بات منگل کی شام ٹیلی وژن پر گفتگو کرتے ہوئے بتائی جس کو بشار حکومت کے ایک روزنامے "الوطن" نے بدھ کے روز شائع کیا ہے۔

لبنانی ملیشیا حزب اللہ شام میں انقلابی تحریک کے آغاز کے وقت سے ہی شامی سرزمین پر بشار الاسد حکومت کے دفاع کے واسطے لڑائی میں مصروف ہے۔ اس نے بشار حکومت کو سقوط سے بچانے میں ایران کی جانب سے شام بھیجی جانے والی ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا۔

حزب اللہ ملیشیا کے حربی ذرائع ابلاغ نے لبنانی علاقے شبعا فارمز میں دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی تصدیق کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ان دھماکوں کی وجہ اسرائیل کی وہ فوجی مشقیں ہیں جو وہ شام کے مقبوضہ علاقے گولان میں کر رہا ہے۔ ان مشقوں کا اختتام جمعرات کے روز ہو گا۔ یہ بات حزب اللہ کے ٹی وی چینل کی ویب سائٹ پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب بتائی گئی ۔

اگرچہ شمالی شام میں ترکی کی فورسز کا وجود شامی حکومت کے دو حلیفوں ماسکو اور تہران کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کا نتیجہ ہے۔ تاہم بثنیہ نےکہا کہ شام میں ترکی کی فورسز کی موجودگی غیر قانونی ہے۔

بشار کی مشیر کے مطابق ان کی حکومت نے ابھی تک لبنانی وزیراعظم سعد حریری کے مستعفی ہونے پر ابھی تک سرکاری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

بشار حکومت کے زیر انتظام اور ہمنوا ذرائع ابلاغ نے شامی حکومت کی مشیر کے بیان کو توجہ دی ہے بالخصوص ان کا یہ کہنا کہ حزب اللہ کے ساتھ ہمارا انجام کار "مشترکہ" ہے۔

عرب لیگ نے گزشتہ برس قاہرہ میں ہونے والے عرب وزراء خارجہ کے ایک اجلاس کے بعد لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے بھی مارچ 2016 میں حزب اللہ ملییشا کو ایک دہشت گرد جماعت قرار دیا تھا۔ مارچ 2016 میں تیونس میں ہونے والے ایک اجلاس کے اختتام پر عرب وزراء داخلہ نے حزب اللہ پر عرب ممالک میں امن کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے لبنانی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔