.

داعش کا راستہ روکیں گے خواہ شام کے اندر ہی کیوں نہ ہو : العبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے بتایا ہے کہ انہوں نے مسلح افواج کو داعش تنظیم کا راستہ روکنے کی ہدایات جاری کی ہیں اگرچہ وہ شامی اراضی کے اندر سے ہی کیوں نہ آ رہی ہوں۔ العبادی نے منگل کے روز مزید کہا کہ سرحدی علاقوں کو داعش کی جانب سے کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے عراق کے پڑوسی ممالک کے ساتھ مشترکہ تعاون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ عراقی وزیراعظم نے خبردار کیا ہے کہ کردستان یا کرکوک اور دیگر متنازع علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے زیر انتظام فورسز کی جانب سے وفاقی افواج یا عام شہریوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسا ہوا تو جوابی کارروائی انتہائی سخت ہو گی۔

دوسری جانب داعش تنظیم کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد میں فضائی حملوں کے رابطہ کار اینڈرو کرافٹ نے منگل کے روز بتایا کہ تنظیم کے خلاف عراقی فورسز کی کارروائیاں شامی اراضی کے اندر نہیں پہنچیں گی۔ کرافٹ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران واضح کیا کہ انہیں عراقی شامی سرحد پر ایرانی ملیشیاؤں کی موجودگی کا کوئی علم نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عراقی کارروائیوں پر بغداد حکومت کی نگرانی میں عمل کیا جا رہا ہے.. اور واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد ابھی تک پیشمرگہ اور عراقی فورسز کے ساتھ اچھے تعلقات کا حامل ہے۔

مذکورہ امریکی ذمّے دار نے اعلان کیا کہ داعش تنظیم کو لاحق ہونے والی ہزیمتوں کے سبب شام اور عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے فضائی حملوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "گزشتہ آٹھ یا نو ماہ کے مقابلے میں اکتوبر کے اندر فضائی حملوں کی تعداد میں 60 سے 70 فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے"۔

عراقی فورسز کے سامنے انبار صوبے میں راوہ ضلعے اور اس کے اطراف میں صحرائی علاقے کی واپسی باقی رہ گئی ہے۔ اس کے بعد اس پوری اراضی کے واپس لے لیے جانے کا اعلان کیا جائے گا جس پر داعش تنظیم نے 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔