.

عرب بائیکاٹ کے چھ ماہ، قطر کا کیا کچھ داؤ پر ہے؟

بائیکاٹ کے بعد قطری اسٹاک مارکیٹ کو 24 فی صد خسارے کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پڑوسی خلیجی ملکوں کے ساتھ بحران اور بائیکاٹ کے چھ ماہ کے بعد خلیجی ریاست قطر کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے چھ ماہ سے جاری اقتصادی اور سفارتی بائیکاٹ کے نتیجے میں دوحہ کو سب سے زیادہ نقصان معیشت کے شعبےمیں اٹھانا پڑا ہے۔ قطری کمپنیاں بیرون ملک اپنے حصص فروخت کرنے پر مجبور ہیں جب کہ قطر کے اندر غیر ملکی سرمایہ کاری مسلسل کم ہو رہی ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں اپنا سرمایہ واپس نکال رہی ہیں۔

بلومبرگ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں اس سے پچھلے ماہ اگست کی نسبت قطر کے مرکزی بنک میں غیر ملکی محفوظ ذخائر میں 9 فی صد کمی ہوئی جس کے بعد قطری بنک میں غیر ملکی ذخائر 34 ارب ڈالر رہ گئے۔ رواں سال کے دوران قطر کی اسٹاک مارکیٹ میں 24 فی صد کمی آئی جب کہ مارکیٹ میں غیرملکی سرماریہ کاری کا حجم مسلسل کم ہو رہا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق کئی قطری حکومت سے وابستہ کمپنیاں اور مالیاتی ادارے اپنی رقوم واپس لینے یا بیرون ملک بھیجنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ان میں ’قطر فاؤنڈیشن‘ بھی شامل ہے جو جو بھارت میں ’VODAFONE‘ نامی فون آپریٹنگ کمپنی کو حصص فروخت 1.5 ارب ڈالر میں کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اسی طرح قطر اسلامی بنک ایشیائی انویسٹمنٹ بنک سے اپنی سرمایہ کاری واپس لینے کے لیےتیار ہے۔ قطر کمرشل بنک نے بھی عرب یونائیٹڈ بنک میں اپنے 40 فی صد حصص فروخت کرنے کےلیے مذاکرات شروع کیے ہیں۔

اس سے قبل قطر انویسٹمنٹ دارے کی جانب سے ’کریڈ سوئس‘، روس کے ’روسنفٹ‘ اور ٹیفانی اینڈ میں اپنے حصص فروخت کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔