.

حوثیوں کے لیے دو ہفتے خونی ثابت، 20 رہ نماؤں سمیت 235 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران یمن میں سرکاری فوج اور عرب اتحادی فوج کی طرف سے جاری آپریشن کے دوران ایران نواز حوثی باغیوں کو غیر معمولی جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ گذشتہ دو ہفتے باغیوں کے لیے خونی ثابت ہوئے ہیں۔ اس دوران 20 اہم لیڈروں سمیت حوثیوں کو 235 جنگجوؤں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران آپریشن میں باغیوں کے 20 اہم لیڈر ہلاک کئے گئے۔ ان میں 17 کا تعلق ایران نواز حوثی باغیوں اور تین کا مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت سے ہے اور وہ ری پبلیکن گارڈ کے کمانڈر کے طورپر جانے جاتے تھے۔ ہلاکتوں کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں باغی جنگجو زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یمنی فوج کی طرف سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو ہفتے حوثی باغیوں پر بہت بھاری گذرے ہیں۔ ان ایام کے دوران باغیوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا۔ زمینی اور فضائی کارروائیوں میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ناکارہ بنادیا گیا۔ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے طیاروں نے باغیوں کے اسلحہ کے گوداموں کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کو سب سے زیادہ جانی نقصان مشرقی صنعاء میں نھم کے محاذ پر اٹھانا پڑا جہاں کم سے کم 100 باغی ہلاک ہوئے۔ س کے بعد جنوب مغربی شہر تعز میں پانچ اہم کمانڈروں سمیت 86 جنگجو اور شمال مغربی گورنری حجہ میں 82 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق نئی کارروائیوں کے دوسرے ہفتے میں 108 یمنی باغی ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں نھم کے محاز پر ہوئیں جہاں باغیوں کو اپنے 11 اہم رہ نماؤں کے جنازے اٹھانا پڑے۔ تازہ کارروائیوں میں 200 سے زاید باغی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مشرقی صنعاء میں لڑائی کےدوران ہلاک ہونے والے اہم باغیوں میں علی زید مہدی صالح قعشہ، نبیل حسن محمد الکبسی، عدنان محمد احمد زبارہ، احمد المتوکل محمد الاسدی، محمد علی محمد المعروف ابو بتول، یاسر عبدہ الناھمی، محسن احمد سراج، وضاح حامد القرقری، ولید قاید الحرازی اور محمد علی محمد الحضرمی کے ناموں سے کی گئی ہے۔