.

"ایران مسافر جہازوں کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایک بار پھر ایران پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ خطے میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور مکروہ مقاصد کی تکمیل کے لیے مسافر ہوائی جہازوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ پچھلے چھ سال سے شام میں جاری لڑائی کے دوران ایران نے بشار الاسد کی مدد کے لیے بڑی تعداد میں جنگجو اور اسلحہ شام بھیجا۔ فوجی پروازوں کے بجائے ایرانی پاسداران انقلاب عام مسافر بردار جہازوں اور مال بردار طیاروں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

العربیہ کے برادر ٹیلی ویژن چینل ’الحدث‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی ’ماھان‘ نامی ایئر لائن کمپنی کے 60 کمرشل اور مال بردار جہاز 40 مختلف روٹس استعمال کرتے ہوئے دنیا کے 24 ملکوں میں جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ’ماھان ایئر لائن‘ ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ افسران کی کمپنی ہے۔ اس میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جو ایران کی بیرون ملک عسکری کارروائیوں کے انچارج جنرل قاسم سلیمانی کے قریب رہ چکے ہیں۔

ادھر ایران کی قومی مزاحمتی کونسل کی خارجہ امور کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے ’ماہان ایئر لائن‘ کو خصوصی سول ادارہ بنایا گیا ہے مگر عملاً اس کمپنی کے ہوائی جہاز ایران سے شام اور لبنان میں جنگجو اور اسلحہ منتقل کرنے میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا نے ماضی میں ’ماھان ایئر‘ سمیت ایران کی کئی دوسری فضائی کمپنیوں پر اقتصادی پابندیاں عاید کی تھیں۔ سنہ 2016ء کے آخر میں امریکی حکومت نے ایران کی جن چار کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیاان میں ماھان ایئر بھی شامل تھی۔