.

ایران : پاسدارانِ انقلاب نے دُہری شہریت والوں کی گرفتاری تیز کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام بالخصوص پاسداران انقلاب نے ملک میں دُہری شہریت رکھنے والوں کے خلاف جاسوسی کے پیشگی الزام کے تحت گرفتاری کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

اگر کوئی شخص ایرانی ہے اور وہ کسی مغربی ملک کی شہریت رکھتا ہے تو ایرانی پاسداران انقلاب کے نزدیک یہ اُس شخص کو "جاسوسی" کے الزام میں حراست میں لینے کی وجہ ہے۔

اس سلسلے میں وکلاء ، سفارت کاروں اور گرفتار شدگان کے عزیز و اقارب کے مطابق پاسداران انقلاب نے گزشتہ دو برس کے دوران غیر ملکی شہریت رکھنے والے کم از کم 30 ایرانی باشندوں کو گرفتار کیا جن میں اکثریت کے پاس یورپی شہریت ہے۔

ماضی میں دُہری شہریت رکھنے والے افراد کی تعداد 10 سے کم ہوا کرتی تھی تاہم 2015 میں جوہری معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود اس میں تیزی سے اور غیر متوقع طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گرفتار شدگان کے عزیزوں اور وکیلوں کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب حراست میں لیے جانے والے ان افراد کو بین الاقوامی تعلقات میں سودے بازی کے لیے بطور کارڈ استعمال کرتی ہے۔

بعض مغربی حکومتیں منظرعام سے دُور رہ کر اس معاملے کو حل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں ، اگرچہ تہران کی جانب سے دُہری شہریت کو تسلیم نہ کرنے کے سبب ان حکومتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بعض گرفتار شدگان کے اہل خانہ نے اپنے معاملے کے لیے ذرائع ابلاغ کا سہارا لیا ہے۔ ان میں سویڈن میں رہنے والے ایرانی سائنس داں احمد رضا جلالی کی اہلیہ بھی شامل ہے۔ جلالی کو 2016 میں تہران میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں رواں سال اکتوبر میں ایرانی حکام نے جاسوسی کے الزام میں جلالی کو سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا۔