.

ایران : نجی فضائی کمپنیاں پاسداران انقلاب کا خفیہ چہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کچھ روز قبل امریکی چینل "فوکس نیوز" نے اس پہلو پر روشنی ڈالی تھی کہ ایرانی پاسداران انقلاب شام ، عراق اور دیگر علاقوں میں اپنی جنگوں کے لیے ہتھیاروں اور فوجیوں کی منتقلی کے واسطے ایران کی سب سے بڑی فضائی کمپنی "ماہان ایئر" کو کس طرح استعمال میں لاتی ہے۔ یہ امر بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگی جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل کی خارجہ امور کی کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ تحقیقی مطالعے کا سہارا لیا گیا۔

اس کے مطابق ایرانی فضائی کمپنیاں خطے میں ایرانی مداخلت کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ایران میں اہم فضائی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ ان میں ایرانی فضائی کمپنی (ایران ایئر)، ماہان ایئر اور "معراج" کمپنی شامل ہے۔ ان کمپنیوں پر عالمی دہشت گردی میں ملوث ہونے اور وسیع تباہی کے ہتھیار پھیلانے کے الزامات ہیں۔

ماہان ایئر.. پاسداران انقلاب کے ہاتھوں میں "ایک نِجی کمپنی"

ان میں ماہان ایئر بظاہر نجی کمپنی ہونے کا دعوی کرتی ہے۔ البتہ رپورٹ کے مطابق ماہان کمپنی نہ صرف پاسداران انقلاب اور قدس فورس کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنی ہے بلکہ یہ دونوں تنظیمیں اس پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ سال 2011 میں بشار الاسد کی آمریت کے خلاف شامی عوام کی مزاحمتی تحریک بھڑک اٹھنے کے بعد سے شام میں ایرانی مداخلت میں اچانک جارحیت دیکھنے میں آئی۔ اس موقع پر قدس فورس کی نگرانی میں ماہان ایئر نے غیر ملکی اہل کاروں اور ایجنٹوں کو شام منتقل کرنے کے علاوہ شامی حکومت اور لبنان میں حزب اللہ کو ساز و سامان فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہان ایئر نے پاسداران انقلاب اور قدس فورس کے رہ نماؤں کو دمشق پہنچانے کی ذمے داری بھی پوری کی۔

ایران کو اوباما انتظامیہ کی طرف سے تاوان

رپورٹ کے مطابق 16 جنوری 2016 کو اوباما انتظامیہ نے ایران میں قید اپنے چار شہریوں کی رہائی کے لیے تاوان بھی ادا کیا۔ اسی معاہدے کے تحت وہائٹ ہاؤس خطرناک جرائم کے مرتکب ایرانی نظام کے سات ایجنٹوں کو رہا کرنے پر بھی آمادہ ہو گیا۔ امریکی انتظامیہ نے انٹرپول کی جانب سے ایرانی نظام کے 14 ارکان کے تعاقب کے سلسلے میں جاری ریڈ وارنٹ بھی منسوخ کروا دیے اور مذکورہ ارکان پر سے تمام الزامات ختم کر دیے گئے۔ ان 14 شخصیات میں تین افراد ماہان ایئر کے سینئر عہدے داران تھے۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

پاسداران انقلاب کی دولت

یاد رہے کہ گزشتہ 15 برسوں میں ایرانی پاسداران انقلاب "نج کاری" کے پردے میں ملک کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

اس وقت ایران کی مجموعی مقامی پیداوار کے 50% سے زیادہ حصّے پر پاسداران انقلاب کا کنٹرول ہے۔ اس مقصد کے لیے کئی کمپنیوں اور اداروں کو استعمال کیا گیا ہے جن میں بعض ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ کے مکمل زیر کنٹرول ہیں ، ان میں ایکو کمپنی شامل ہے۔ نومبر 2013 میں برطانوی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں "ايكو" کمپنی کے اثاثوں کی مالیت کا اندازہ 95 ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔

ماہان ایئر کمپنی پردہ اور خفیہ چہرہ

فوکس نیوز کی رپورٹ کی جانب واپس لوٹیں تو جولائی 2015 میں ایرانی جوہری معاہدے کے تحت بعض اداروں کو پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا جس میں ایرانی فضائی کمپنی شامل ہے۔ تاہم ماہان ایئر اور معراج کمپنی بدستور فہرست میں شامل رہی۔ گزشتہ چند برسوں میں ماہان ایئر نے بین الاقوامی پابندیوں کو چکمہ دینے کے لیے فرضی کمپنیوں کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک قائم کیا۔ اس دوران کمپنی نے ایئر بس اے 340 سمیت جدید ترین طیاروں کو اپنے بیڑے میں شامل کیا۔ اس طرح ماہان ایئر دور دراز منازل تک جانے کی قدرت رکھنے والی واحد ایرانی فضائی کمپنی ہے۔ ایران میں "مولى الموحّدين" چیریٹی ادارہ ماہان ایئر کے 100% حصص کا مالک ہے۔ یہ ادارہ 30 سے زیادہ بڑی اقتصادی کمپنیوں میں بھی حصص رکھتا ہے۔ سال 2014 میں اس ادارے کے مجموعی اثاثوں کی مالیت کا اندازہ 1000 ارب تومان یعنی تقریبا 35 کروڑ ڈالر لگایا گیا۔

ماہان ایئر کا قُدس فورس کے ساتھ تعلق

جہاں تک "ماہان" کمپنی کے نام کا تعلق ہے تو یہ جنوبی ایران میں کرمان شہر سے 35 کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک چھوٹے سے قصبے کے نام سے لیا گیا ہے۔ کمپنی کا یہ نام عطاء اللہ مہاجرانی نے رکھا جو اُس وقت پارلیمانی امور کے لیے ایرانی صدر کے نائب تھے۔ وہ اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کی پہلی مدت کے دوران وزیر ثقافت بھی رہے۔ ماہان فضائی کمپنی پاسداران انقلاب کے غیر ملکی ادارے اور مرکزی قوت قُدس فورس کی تشکیل کے کچھ ہی عرصے بعد قائم ہوئی۔ اس کو محض ایک اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے کہ قُدس فورس کا کمانڈر قاسم سلیمانی کرمان کے گاؤں قنات ملک میں پیدا ہوا۔ ماہان کمپنی میں مرکزی ارکان اور عہدے داران کی اکثریت کرمان میں پیدا ہوئی جن میں زیادہ تر کا تعلق پاسداران انقلاب بالخصوص قدس فورس سے ہے۔

بعض رپورٹوں کے مطابق ماہان فضائی کمپنی میں مرکزی منصبوں کی بندر بانٹ قاسم سلیمانی کی ہدایت پر عمل میں آتی ہے۔ قاسم سلیمانی کا ایک بھانجا بھی کمپنی میں بطور پائلٹ کام کر رہا ہے۔

شام میں ماہان ایئر کا کردار

قاسم سلیمانی نے عراقی فضائی حدود کو عبور کرنے کے لیے ماہان ایئر کے طیاروں کی پروازوں کا انتظام کیا تا کہ براہ راست شام پہنچا جا سکے۔ اس معاملے کو عراق میں ایرانی نظام کے ایجنٹوں بالخصوص بدر فورس کے کمانڈر ہادی العامری کے ذریعے پورا کیا گیا۔ یہ فورس گزشتہ صدی کی 80ء کی دہائی سے عراق میں ایرانی ایجنٹ شمار کی جاتی ہے۔

ماہان ایئر تہران ، مشہد ، اصفہان ، شیراز اور عبادان سے روزانہ دمشق کے لیے پروازیں چلا رہی ہے۔ اسلحہ ، عسکری ساز و سامان اور عسکری اہل کاروں کو منتقل کرنے کے لیے یہ پروازیں عراقی فضائی حدود سے گزرتی ہیں۔

ماہان ایئر پر پابندیاں

امریکا نے 2011 کے بعد سے تین مرتبہ ماہان ایئر کمپنی پر پابندیاں عائد کیں۔ اس لیے کہ یہ فضائی کمپنی شامی حکومت کو ہتھیار پہنچانے کے علاوہ ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کو منتقل کر رہی تھی اور لبنانی حزب اللہ ملیشیا کو آمد و رفت کا ذریعہ مہیا کر رہی تھی۔

امریکی وزارت خزانہ نے 12 اکتوبر کو اعلان کیا کہ ماہان ایئر کمپنی ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم قُدس فورس کو مالی ، مادی اور ٹکنالوجی کی سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے نے 31 مئی 2015 کو قاسم سلیمانی کے دست راس حامد عرب نجاد اور دیگر ذمے داران کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔

دوسری جانب ایرانی نظام نے ماہان ایئر اور دیگر درجنوں مماثل کمپنیوں کو بطور نجی کمپنیاں پیش کر کے بین الاقوامی پابندیوں سے دُور رکھنے کی کوشش کی۔

ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل کے مطابق اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایرانی معیشت کا ایک بڑا حصّہ پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام اداروں کے ہاتھوں میں ہے۔ علاوہ ازیں ایرانی نظام کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے براہ راست فوائد پاسداران انقلاب کو پہنچتے ہیں.. اور اس طرح یہ مقامی سطح پر کریک ڈاؤن کے علاوہ خطے اور دنیا بھر میں دہشت گردی ، شدت پسندی اور جنگیں بھڑکانے میں کام آ رہے ہیں۔