.

ایران نے مشرق وسطی میں "حزب الله" کا ماڈل کس طرح برآمد کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی ادارے "گلوبل رِسک اِنسائٹس" کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ ایران کی جانب سے مشرق وسطی بالخصوص یمن ، عراق اور شام میں غلبہ پانے کے لیے کس طرح "حزب اللہ" ملیشیا کا ماڈل پھیلایا گیا۔

ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے ایران کے رسوخ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان واقعات میں یمن میں باغی حوثی ملیشیا کا سعودی عرب پر میزائل داغنا اور لبنانی وزیراعظم سعد حریری کا مستعفی ہونا شامل ہے۔

یہ بات بھی باور کرائی گئی ہے کہ داعش تنظیم کے خلاف جنگ پر توجہ اور خطے میں تہران کے تخریبی کردار کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ بغداد اور دمشق کے ذریعے ایرانی غلبے میں اضافے اور بحیرہ روم تک اس کی پیش قدمی کی صورت میں سامنے آیا۔ عراق ، شام اور لبنان ایرانی عسکری اور اقتصادی قوت کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ میں فرنٹ لائن بن گئے۔

حزب اللہ کا ماڈل جنم دینے کے جواز

رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی قومی سلامتی کے دفاع اور بیرونی سرحد کو محفوظ بنانے کے بہانے خطے کے ممالک میں حزب اللہ ملیشیا کا ماڈل جنم دینے کے ذریعے اپنے وجود کو پھیلایا۔

اس طرح تہران سے بیروت کا راستہ نہ صرف پاسداران انقلاب ، قدس فورس ، ہتھیاروں اور کمک کی منتقلی کی راہ داری بنا بلکہ عرب اراضی میں نظریے اور رسوخ کی گہرائی کا بھی ذریعہ بنا۔ اس تمام پیش رفت میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور اس سے ملتی جلتی دیگر تہران نواز شدت پسند جماعتوں کے ماڈل نے اہم کردار ادا کیا۔ شام میں ایران نے اپوزیشن کی پیش قدمی روکنے ، بشار الاسد کو سپورٹ کرنے اور شام ، عراق اور یمن میں دیگر ملیشیاؤں کی تربیت کے واسطے "حزب اللہ" کی بہترین تربیت یافتہ فورسز کو استعمال کیا۔

عراق کی ملیشیائیں اور ایرانی ایجنڈا

عراق میں 2014 میں دہشت گرد تنظیم داعش کے نمودار ہونے کے ساتھ ہی ایرانی نژاد شیعہ مذہبی شخصیت علی السیستانی نے تنظیم کے خلاف لڑائی کا فتوی جاری کیا۔ اس کے بعد ایران نے مختلف مسلح گروپوں پر مشتمل ملیشیا "الحشد الشعبی" قائم کی اور پاسداران انقلاب کے ذڑیعے اس کو ہتھیار اور تربیت فراہم کی۔ نومبر 2016 میں یہ ملیشیا ایک قانونی بِل کے تحت عراقی فوج میں ضم کر دی گئی۔ یہ شیعہ جماعتیں بالخصوص حرکت النجباء ، عصائبِ اہلِ حق ، عراقی حزب اللہ ، الخراسانی بریگیڈز ارو بدر تنظیم یہ تمام ایران کی انتہائی وفادار ہیں۔ یاد رہے کہ "کرکوک" کے بحران کے آغاز کے بعد عراق میں ان ملیشیاؤں کا کردار ایرانی پھیلاؤکے واسطے واضح ہو گیا۔ برطانوی ادارے کی رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا وہ امداد اور تربیت جس کا مقصد دراصل داعش تنظیم کے خلاف لڑنا تھا وہ تہران کے علاقائی مقاصد پر عمل درامد کرنے والی عراقی مسلح جماعتوں تک پہنچ گئی ؟

شام کی "حزب اللہ" ملیشیا

شام میں روس اور ایران کی مداخلت سے قبل بشار فوج کی افرادی قوت ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی جس کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے حزب اللہ کے انداز پر چھوٹے گروپ تشکیل دیے۔ اکتوبر 2015 میں ایک اندازے کے مطابق شامی سرکاری فوج کے اہل کاروں کی تعداد 80 ہزار سے 1 لاکھ کے درمیان تھی۔ ایران نے شامی "قومی دفاع " کی ملیشیائیں بنا کر اس خلا کو پُر کیا۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر مکماسٹر کے مطابق بشار حکومت کے نام پر لڑنے والی ان فورسز میں سے 80% وفاداری ، تربیت اور اسلحے کے حوالے سے ایران کے زیر انتظام ہے۔

لبنان کی صورت حال عراق کے مماثل

"گلوبل رِسک اِنسائٹس" کی رپورٹ میں لبنان کی پیچیدہ صورت حال کو عراق کی صورت حال سے تشبیہ دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لبنانی عسکری فورسز میں پیچیدگیوں کا ظہور 2017 میں ہوا جب لبنانی فوج نے عرسال کی لڑائی کے سلسلے میں حزب اللہ کے ساتھ رابطہ کاری کی۔ اس سے ایران اور اس کے حلیفوں کے رسوخ کی وسعت کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ رپورٹ میں اس نتیجے پر پہنچا گیا ہے کہ کم از کم عراق اور لبنان میں ایران کے تشکیل دیے گئے گروپوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا کو چاہیے کہ باصلاحیت مسلح افراد کے چھوٹے یونٹوں کو تربیت دے جن پر آسانی سے اعتماد کیا جا سکتا ہو۔ عراق اور شام میں امریکی اسپیشل آپریشنز کی فورسز کے اہل کاروں کی تعداد 10 ہزار تک ہے۔