.

سعودی خاتون رضاکارانہ طور پر ڈرائیونگ سکھانے کے لیے میدان میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے شہر ظہران میں نوجوان خاتون نورا الدوسری اپنے رہائشی کمپاؤنڈ کے اندر گاڑی کا اسٹیرنگ سنبھالے اپنے روز مرہ کے معمولات پورے کرتی نظر آتی ہیں۔

نورا نے 2010 میں گھر والوں کی جانب سے حوصلہ افزائی پر بحرین میں گاڑی چلانا سیکھی۔ سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے پر عائد پابندی اٹھائے جانے کے بعد انہوں نے بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر لیا۔

اس کے بعد نورا نے پُھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کر ڈالا کہ وہ مختلف عمر کی خواتین کو رضاکارانہ طور پر ڈرائیونگ سکھانے کا سلسلہ شروع کر رہی ہیں۔ اس منصوبے کو شہر میں خواتین کی جانب سے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ فوری طور پر 15 خواتین نے ڈرائیونگ سیکھنے کے نورا کی شاگردی اختیار کر لی۔ نورا روزانہ ان خواتین کے ساتھ پانچ گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزارتی ہیں۔ اس دوران وہ اپنی ذاتی گاڑی استعمال کرتے ہوئے خواتین کو منظّم طریقے سے مفت تربیت اور لیکچر دیتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے نورا الدوسری نے بتایا کہ وہ اس منصوبے کے ذریعے نئی خواتین ڈرائیوروں کو جدید سائنسی طریقے سے محفوظ ڈرائیونگ کے لیے مطلوب مہارت فراہم کر رہی ہیں۔ اس دوران خواتین کو سڑک پر درپیش ممکنہ خطرات اور ٹریفک کی حرکت کی سمجھ سے آگاہ کیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی اور دوسروں کی زندگی کو محفوظ رکھ سکیں۔

نورا الدوسری کے مطابق ان کے تربیتی پروگرام میں سڑک پر فرضی ہنگامی صورت حال بھی شامل ہوتی ہے مثلا راستے میں اچانک کسی رکاوٹ ، راہ گیر یا سائیکلوں کا آجانا اور اس کے علاوہ کسی دوسری تیز رفتار گاڑی کا سگنل توڑ کر یک دم آنا شامل ہے۔ نورا کے مطابق گاڑی چلانے والی خواتین کو گاڑی کی مرمت کی بنیادی سمجھ بوجھ بھی ہونا چاہیے تا کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال یا خرابی کے وقت اپنی مدد آپ بھی کی جا سکے۔

نورا الدوسری نے سعودی خواتین کے اندر ڈرائیونگ سیکھنے کی صلاحیت اور شوق کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا گاڑی چلانا معاشرتی تبدیلی کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اس طرح خواتین کو خود اعتمادی حاصل ہو گی اور وہ وہ ٹیکسی کا انتظار کیے بغیر اپنی ضروریات کو پورا کر سکیں گی۔ اس کے علاوہ سعودی خواتین افرادی قوت اور معاشی خود مختاری کے دھارے میں بھی شامل ہو سکیں گی