.

سعودی عرب کی جانب سے بحرین کو تیل کی سپلائی بحال

بحرین میں حملے کے بعد سعودی عرب نے تیل کی تنصیبات کی سکیورٹی بڑھا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے بحرین کو تیل کی سپلائی بحال کر دی، سعودی عرب نے گذشتہ روز بحرین کو آئل سپلائی روک دی تھی۔

بحرین نیشنل آئل کمپنی کے مطابق سعودی عرب کی آئل کمپنی کے تعاون سے بحرین کو آئل کی سپلائی بتدریج بحال کی جا رہی ہے۔سعودی وزرت توانائی نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ بحرین میں آئل پائپ لائن دھماکے کے بعد سیکیورٹی وجوہات پر بحرین کو آئل سپلائی روک دی گئی ہے۔ جس کے بعد صورتحال کی بہتری کے بعد اتوار سے تیل کی سپلائی بحال کردی گئی ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب میں توانائی اور معدنی دولت کی وزارت کے ایک اعلان میں بتایا گیا تھا کہ بحرین میں حملے کے بعد مملکت نے تیل کی تنصیبات پر سکیورٹی کو سخت کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں خام تیل کی منتقلی کی پائپ لائنپر حملے کے بعد بحرین کو تیل کی پمپنگ روک دی گئی ہے۔

سعودی وزارت نے بحرین میں توانائی کے سیکٹر کے خلاف حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے منامہ کے ساتھ مکمل سپورٹ کا اظہار کیا اور اس بزدلانہ کارروائی کی سخت مذمت کی۔

سعودی وزارت نے بحرین میں حملے کے بعد لگنے والی آگ پر ریکارڈ دورانیے میں قابو پا لینے پر متعلقہ اداراوں کی صلاحیت اور قدرت کو بھرپور انداز سے سراہا۔

اس سلسلے میں سعودی ارامکو کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ جمعہ 10 نومبر کی رات ٹھیک گیارہ بجے بحرین کے شہر حمد میں خام تیل کی پائپ لائن میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں سعودی عرب کے علاقے ظہران سے بحرین کے لیے جانے والی خام تیل کی سپلائی کو فوری طور پر روک دیا گیا۔ حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سعودی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار ذریعے نے مملکت کی جانب سے مذکورہ حملے کی شدید مذمت کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں بحرین میں بوری کے علاقے کے نزدیک تیل کی ایک پائپ لائن میں آگ لگ گئی تھی۔

مذکورہ ذریعے نے واقعے کے حوالے سے بحرین کی حکومت کے بیان کا حوالہ دیا جس میں باور کرایا گیا کہ بحرین میں کچھ عرصے سے دیکھے جا رہے دہشت گردی کے واقعات ایران کی براہ راست ہدایت پر ہو رہے ہیں۔