.

شام میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کردار بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی تنظیم "مجاہدین خلق" نے ہفتے کے روز باور کرایا ہے کہ شام میں جاری لڑائی کی کارروائیوں میں عملی کردار کو تہران نواز فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی بنیادی سپورٹ حاصل ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب کے احکامات پر عمل پیرا ہیں۔

مجاہدین خلق کی جانب سے ایرانی سکیورٹی اداروں اور فوج کے اندر سرائیت کی کارروائی کے بعد ایران میں حکمراں نظام کی مخالف تنظیم نے شام میں پاسداران انقلاب کے عسکری کیمپوں اور کمان کے مراکز کے بارے میں درست اور حساس معلومات کا انکشاف کیا ہے۔

تفصیلات میں مجاہدین خلق تنظیم نے شام میں اُن 5 بنیادی محاذوں کے بارے میں معلومات کی تحقیقات کی ہیں جو مکمل طور پر ایران کے زیر کنٹرول ہیں۔

ان محاذوں میں سب سے پہلے دمشق کے ہوائی اڈے کے ایک جانب واقع الزجاجی کا مقام ہے جہاں ایرانی مرکزی کمان کے مراکز شامل ہیں۔ اس مقام کے ذریعے فورسز کو شام کے تمام محاذوں پر منتقل کیا جاتا ہے۔

دمشق کے مغرب میں واقع الشیبانی بیرک کمان کے مرکز میں فجرِ شیراز بریگیڈ کے علاوہ فاطمیون اور حزب اللہ ملیشیائیں مقیم ہیں۔
جنوبی محاذ میں دمشق کا نواحی دیہی علاقہ ، درعا ، قنیطرہ اور سویداء شامل ہے۔ یہاں مہدی شیراز بریگیڈ کا میزائل یونٹ اور ایرانی پاسداران انقلاب کی فضائیہ تعینات ہے۔

مشرقی محاذ میں الحسکہ ، دیر الزور ، رقّہ اور قامشلی کے صوبے شامل ہیں۔ ان میں اہم ترین مرکز الشعیرات کا فوجی ہوائی اڈہ اور ٹی 4 کا ہوائی اڈہ شامل ہے جہاں ریپبلکن گارڈز ، روسی فورسز اور مغاویر فورسز کے ہزاروں اہل کار موجود ہیں۔

شمالی محاذ میں حلب آپریشنز کی کمان کے علاوہ ترکی کی سرحد کے نزدیک عسکری گاڑیوں کی بیرکس اور مایر شہر شامل ہے جس کو پاسداران انقلاب کے زیر کنٹرول عسکری ہیڈکوارٹر میں بدل دیا گیا۔ یہاں ساحلی جانب پاسداران انقلاب کے دو ہزار مسلح ارکان موجود ہیں۔

مجاہدین خلق تنظیم کے اندازے کے مطابق شام میں ایرانی نظام کے زیر انتظام فورسز کے اہل کاروں کی تعداد 70 ہزار سے زیادہ ہے۔ ان میں 20 ہزار عراقی ملیشیا کے اور اتنے ہی افغان ہیں۔ ان کے علاوہ 7 ہزار پاکستانی اور حزب اللہ کے تقریبا دس ہزار مسلح ارکان شامل ہیں۔