.

یمنی کرنسی کی قدر کو سنبھالا دینے کے لئے 2 ارب ڈالر مالیت کی سعودی امداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے آئینی صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کل ہفتے کو ایک بیان میں بتایا کہ سعودی عرب یمن کے مرکزی بنک کو قومی کرنسی کے استحکام کے لیے دو ارب ڈالر کی رقم ڈیپازٹ کی شکل میں ادا کرے گا۔

سعودی عرب کی طرف سے یمن کے مرکزی بنک کے لیے دو ارب ڈالر کی خطیر رقم کی ادائی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں ڈالر کے مقابلے میں یمنی ریال کی قدر میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت ایک ڈالر 440 یمنی ریال کے مساوی ہے۔ یمنی ریال کی قیمت میں کمی کے نتیجے میں تمام اشیائے صرف کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی آئی ہے۔

یمنی صدر عبد ربہ منصورھادی نے ان خیالات کا اظہار سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں یمنی وزیراعظم اور اپنے مشیریوں کے ایک اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اس اجلاس میں انہوں نے یمنی حکومت کے عہدیداروں کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا بھی احوال بیان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور یمن کی آئینی حکومت ملک کی وحدت، خود مختاری اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے ملکر کوششیں جاری رکھیں گے۔ دونوں ملکوں کا ہدف اور منزل ایک ہے اور دونوں کو یکساں نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں سب سے اہم چیلنج یمن میں ایران نوازحوثی گروپ اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کی بغاوت ہے۔ یہ بغاوت ایران کی مداخلت سے جاری ہے۔ اسے ہر صورت میں ناکام بنانا ہے۔

صدر ھادی کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد نے یمن میں جنگ سے تباہ حال بنیادی ڈھانچے بالخصوص تعلیم، صحت، شاہرات، بجلی، پانی اور دیگر شعبوں کے انفرااسٹرکچر کی بحالی میں ہرممکن مدد کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ یہ کام جنوری 2018ء سے شروع کیا جائے گا۔

اجلاس میں یمن کے لیے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی مساعی اور ایثار وسخاوت پر مبنی اقدامات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے یمن کے مرکزی بنک کو دو ارب ڈالر کی رقم ادا کرنے سے یمن کی سرکاری کرنسی کی قیمت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ یمن میں بغاوت کے بعد قومی کرنسی ریال کی قیمت میں 100 فی صد سے زاید کمی واقع ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں ملک میں بنیادی ضرورت کی اشیاء بہت مہنگی ہوگئی ہیں۔