.

اسرائیل "ایران نواز ملیشیاؤں" کو گولان سے دُور کرنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی جانب سے شام میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخیروں اور گوداموں کو ایک سے زیادہ مرتبہ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے اور کئی مرتبہ مقبوضہ گولان کے علاقے کے قریب آنے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔ متعدد رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان کئی مرتبہ بات چیت ہوئی ہے جس کا مقصد اسرائیل کی سرحد کے قریب سے ایران نواز مسلح گروپوں کو دور کرنا ہے۔

اسرائیل نے اتوار کے روز ایک بار پھر اس موقف کو دُہرایا ہے کہ وہ شام کے ساتھ سرحد پر اپنی عسکری ضربوں کا سلسلہ جاری رکھے گا تا کہ ایران کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والی فورسز کی جانب سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ روس اس بات پر شامی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ فورسز کو گولان کے پہاڑی علاقے سے

ایک محدود مسافت تک دُور کر دیا جائے۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں گولان کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

ادھر ایک اسرائیلی ذمے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ مذکورہ مسلح گروپوں کو 5 سے 30 کلو میٹر کی مختلف مسافتوں تک دُور کیا جائے گا۔

ماسکو نے ابھی تک اس معاہدے یا اتفاق رائے کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اسرائیل کافی عرصے سے دو بڑی طاقتوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تا کہ ایران ، حزب اللہ اور دیگر شیعہ جنگجوؤں کو شام میں کسی بھی مستقل اڈے کے حصول سے روکا جائے اور انہیں گولان کے علاقے سے دُور کیا جائے۔

دوسری جانب علاقائی تعاون کے اسرائیلی وزیر تساحے ہینگے نے مذکورہ اتفاق رائے میں شک کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ "اس بات کے حوالے سے مفاہمت پائی جاتی ہے کہ اسرائیل نے سُرخ لکیر کا تعین کر دیا ہے جس کو شدت کے ساتھ تھامے رکھے گا"۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے ہفتے کے روز اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ مقصد اس صورت میں پورا ہو سکتا ہے جب روس ایران کے ساتھ مربوط جنگجوؤں کو جنوب مغربی شام میں جنگ بندی کے علاقے سے دُور کرنے کا عزم کرے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ "اگر اس میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو ہماری پالیسی کا یہ مقصد واضح ہو جائے گا کہ اِن عناصر سے نجات حاصل کی جائے اور آخرکار انہیں شام سے باہر نکالا جائے"۔