.

شام کا شہر البوکمال پھر سے داعش کے ہاتھوں میں، روس کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے دو روز قبل ایک اعلان میں بتایا تھا کہ داعش تنظیم نے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں البوکمال شہر کو بشار کی فوج سے واپس لے لیا ہے۔ کئی قبائلی عمائدین اور مقامی آبادی نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ ملک میں داعش کا آخری گڑھ اور سب سے زیادہ تزویراتی حیثیت کا حامل ہے۔ شامی فوج اور اس کے حلیف جمعے کے روز فتح کا جشن مناتے ہوئے البوکمال میں داخل ہوئے تھے۔

دوسری جانب روس نے جمعے کے روز کی پیش رفت پر قائم رہتے ہوئے باور کرایا ہے کہ شامی حکومت اور اس کے حلیف علاقے سے نہیں نکلے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بات قطعا بے بنیاد ہے۔

ادھر المرصد نے قبائلی زعماء اور مقامی آبادی کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے دوبارہ سے البوکمال شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل تنظیم نے ایران کے حمایت یافتہ گروپوں جن میں حزب اللہ سرِفہرست ہے اُن کے خلاف گھات لگائی تھی۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے جو شہر کے وسط میں سرنگوں میں چھپے ہوئے تھے اچانک سامنے آ کر حزب اللہ کے جنگجوؤں کو حیران و پریشان کر ڈالا۔ شیعہ جنگجوؤں نے روس کی شدید بم باری کی معاونت سے دیر الزور صوبے کے شہر البوکمال پر حملہ کیا تھا۔ بم باری کے نتیجے میں درجنوں شہری جاں بحق ہو گئے جب کہ وسیع پیمانے پر تباہی بھی ہوئی۔

داعش تنظیم کی جانب سے شہر کو واپس لینے کے طریقہ کار کے حوالے سے ایک قبائلی رہ نما قحطان غانم العلی نے بتایا کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے دو خود کش بم باروں اور میزائل حملوں کے ذریعے اچانک حملہ کر دیا۔ اس سے قبل ایرانی گروپوں کو یہ دھوکا دیا گیا تھا کہ داعش کے ارکان شہر سے کوچ کر گئے ہیں۔

شامی حکومت نے جمعرات کے روز داعش تنظیم کے خلاف کامیابی کا اعلان کیا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ شدت پسندوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کر دیا گیا جب کہ درجنوں جنگجوؤں نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔ شامی حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ البوکمال شہر پر کنٹرول داعش کے ڈھے جانے کی دلیل ہے جس نے تین برس تک اس علاقے میں قبضہ جمائے رکھا۔

یاد رہے کہ البوکمال شہر شام اور عراق کے درمیان شدت پسندوں کے لیے کُمک اور رابطے کا مرکزی مقام ہے۔ المرصد اور مقامی آبادی کے مطابق مبینہ روسی طیاروں نے اتوار کے روز مسلسل تیسرے روز البوکمال شہر پر اپنی بم باری کا سلسلہ شدید کر دیا۔ جمعے کے روز سے اب تک بچوں اور خواتین سمیت کم از کم 50 شہری موت کی نیند سو چکے ہیں۔ اس سے قبل البوکمال شہر کے مشرق میں واقع قصبے السکریہ پر ایک فضائی حملے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔

دوسری جانب روسی عسکری مجموعے کے کمانڈر نے اتوار کے روز اس خبر کی تردید کی ہے کہ شامی حکومت کی فورسز عراق کے ساتھ سرحد کے نزدیک واقع شہر البوکمال سے نکل گئی ہیں۔ روسی عسکری ذمے دار نے روسی ایجنسی "نوویسٹی" کو بتایا کہ اس وقت شہر اور اس کے اطراف کو کلیئر کرانے کی کارروائی اختتام کے قریب ہے۔ فوجی اہل کار شہر کے اطراف کے علاقوں میں بچے کھچے دہشت گردوں کی ٹولیوں کا خاتمہ کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کو براہ راست شامی فوج کا سامنا ہے۔ کمانڈر کے مطابق اگلے مرحلے میں علاقے کو بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز آلات سے پاک کیا جائے گا جو عموما داعش تنظیم اپنی شکست کے بعد پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔