.

یمن : بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے دوبارہ کھولے جانے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والا اتحاد نے ملک کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو بتدریج دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں سعودی مشن نے اپنے ایک بیان میں بتائی۔ سعودی دارالحکومت ریاض پر 4 نومبر کو بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد یمن میں تمام ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو بند کر دیا گیا تھا۔

عرب اتحاد کی جانب سے جاری ایک بیان اقوام متحدہ میں سعودی وفد کی طرف سے پیش کیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یمنی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد اس امر پر اتفاق ہو گیا ہے کہ یمن میں ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو دوبارہ کھولے جانے کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے متعلقہ اقدامات کیے جائیں تا کہ انسانی امداد اور تجارتی کھیپوں کو منتقل ہونے دیا جا سکے۔

بیان کے مطابق اس حوالے سے پہلا قدم آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آئے گا۔ اس میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں تمام بندرگاہوں کو دوبارہ سے کھول دیا جائے گا جن میں عدن ، موکا اور المکلا شامل ہیں

جہاں تک حوثی باغیوں کے زیر قبضہ بندرگاہوں مثلا الحدیدہ وغیرہ کا تعلق ہے تو اس کے لیے عرب اتحاد نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی عدم اسمگلنگ کو یقینی بنانے کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم وہاں بھیجے۔

عرب اتحاد نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حوثی باغیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ میں شریک ایرانی حکام کی جانب سے ہتھیاروں ، گولہ بارود اور میزائلوں کی اسمگلنگ کی کارروائیوں کو روک دیا جائے گا۔