.

عرا ق: داعش کی شکست کے بعد نئی سیاسی اور ثقافتی مشکلات امدادی سرگرمیوں میں حائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں داعش کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہونے کو ہے لیکن جنگ سے متاثرہ عراقیوں تک انسانی امداد مہیا کرنے میں نئی سیاسی اور ثقافتی مشکلات درپیش ہوگئی ہیں۔

یہ بات نارویجئین مہاجر کونسل ( این آر سی) کے ڈائریکٹر اور اقوام متحدہ کے انسانی امور کے مشیر جان ایجلینڈ نے بدھ کو ایک بیان میں کہی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں مدد دینے والا بین الاقوامی اتحاد جنگجوؤں کی شکست کے بعد اب انسانی امداد کے بجٹ کو کم کرسکتا ہے۔

عراق میں داعش کے خلاف گذشتہ تین سال کے دوران میں تیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے اور وہ ابھی تک اپنے گھروں کو نہیں لوٹے ہیں۔بغداد کی مرکزی حکومت اور خود مختار کردستان کے درمیان ستمبر میں آزادی ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے بعد ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

جان ایجلینڈ نے عراق میں برطانوی خیبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ ملک میں نئی سیاسی ، ثقافتی اور فرقہ وارانہ تقسیم بظاہر بڑھ رہی ہے۔ہم سڑکوں کی مزید بندش اور تشدد نہیں چاہتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں عراق سے ایک بات سیکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ ہم فوجی مہموں پر اربوں ڈالرز خرچ نہیں کرسکتے ہیں اور پھر ہم لوگوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے بہت تھوڑی رقم صرف نہیں کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ’’ یہ فیصلہ سازی کا وقت ہے ۔کیا ہم آیندہ سال لوگوں کی بحالی اور تعمیر نو میں مدد کریں گے؟یا پھر ہم قبل ازوقت ہی اس کام کی تکمیل کے بارے میں سوچیں گے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم لاکھوں بے گھر لوگوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیں گے تو یہ بہت ہی شرم ناکی اور کوتاہ نظری کی بات ہوگی۔

عراقی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے گذشتہ ایک سال کے دوران میں شمالی شہر موصل سمیت داعش کے زیر قبضہ کم وبیش تمام علاقوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق داعش کے خلاف بڑی کارروائی کے دوران موصل سے دس لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے اور ان میں سے نصف سے بھی کم اب تک اپنے گھروں کو لوٹے ہیں۔داعش سے بازیاب کرائے گئے دوسرے علاقوں میں بھی یہی صورت حال ہے۔